امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ نئی موسمیاتی رپورٹ کے بعد سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ تیز ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اس سائنسی ڈیٹا کو "سیاسی چال” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
پنسلوانیا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ اعدادوشمار محض سخت ماحولیاتی ضوابط نافذ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ "یہ لوگ پھر سے نمبر تبدیل کر رہے ہیں،” انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا۔ "یہ سب ایک ڈرامہ ہے، اور وہ ہماری توانائی کی بالادستی کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔”
منگل کے روز جاری ہونے والی کی رپورٹ میں سمندری حرارت کے جذب ہونے کے نئے اعدادوشمار شامل کیے گئے ہیں، جس کے مطابق 2050 تک عالمی درجہ حرارت میں متوقع اضافے میں 0.2 ڈگری سیلسیس کی مزید تیزی آ سکتی ہے۔ محققین نے ان ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے تین سال صرف کیے، جس میں بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے بدلتے ہوئے کرنٹ پیٹرنز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ نظرثانی ایک تکنیکی عمل ہے، کوئی سیاسی فیصلہ نہیں۔ رپورٹ کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر سارہ جینکنز نے واضح کیا کہ "ہم نے آب و ہوا کو نہیں بدلا، بلکہ اسے ماپنے کی اپنی صلاحیت بہتر کی ہے۔ طبیعیات کے اصول وہی ہیں۔ ہمارے سینسرز پہلے سے زیادہ درست ہو چکے ہیں۔”
سیاسی تنازع کا مرکز ان اعدادوشمار کے معاشی اثرات ہیں۔ جہاں سائنسی برادری اس ڈیٹا کو انفراسٹرکچر میں تبدیلیوں کے لیے ایک روڈ میپ سمجھتی ہے، وہیں ٹرمپ کی ٹیم اسے ملکی ایندھن کی پیداوار کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے۔ ٹرمپ کے مشیروں نے اشارہ دیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو ان حکومتی ماڈلز پر مبنی فیصلوں اور ضوابط کو ختم کر دیا جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی بیان بازی سے قطع نظر، زمینی حقائق بدستور تشویشناک ہیں۔ چاہے درجہ حرارت کا تخمینہ کسی بھی سطح پر ہو، ساحلی شہروں کے لیے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
