اسلام آباد: ماہرینِ معیشت اور پالیسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی میں ایک وسیع تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور طویل المدتی اصلاحات پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، محصولات کی وصولی بہتر بنانے اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ حکومت نے سرمایہ کاری کے فروغ، معاشی استحکام اور اہم شعبوں کی ترقی کے لیے بھی متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بجٹ قلیل مدتی معاشی انتظام سے آگے بڑھتے ہوئے معیشت کی دستاویز بندی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور پائیدار ترقی کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے کو نمایاں کرتا ہے۔
کاروباری حلقوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور معاشی استحکام کے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم بعض شعبوں نے نئے ٹیکسوں اور قواعد و ضوابط کے ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بجٹ کی کامیابی کا انحصار مؤثر عملدرآمد، پالیسیوں کے تسلسل اور ترقیاتی اہداف کے ساتھ مالیاتی ذمہ داری کے توازن پر ہوگا۔
