اسلام آباد — بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے تناظر میں پاکستان اور ایران نے اپنے دوطرفہ تجارتی حجم کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ایک پرعزم ہدف مقرر کیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل سرحد اور توانائی، خوراک اور ٹیکنالوجی کی باہمی ضرورت موجود ہے، لیکن بین الاقوامی پابندیوں، بینکنگ کے مسائل اور سرحدی انتظام میں درپیش رکاوٹوں کے باعث قانونی تجارت ہمیشہ محدود رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ محض تجارتی معاہدے اس وقت تک بے اثر رہیں گے جب تک دونوں پڑوسی ممالک ایک مشترکہ ‘نالج کوریڈور’ (علمی راہداری) قائم نہیں کرتے، جو تعلیمی اور تحقیقی اشتراک کو دونوں ممالک کی صنعتی حکمتِ عملی کا حصہ بنا سکے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان اس مجوزہ علمی راہداری کے چار اہم ستون ہوں گے۔ پہلا، زراعت اور توانائی جیسے غیر قانونی پابندیوں سے پاک شعبوں میں مشترکہ تحقیق کے لیے ایک فنڈ کا قیام۔ دوسرا، یونیورسٹیوں کی سطح پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کے لیے مشاورتی مراکز بنانا تاکہ مصنوعات کا معیار بہتر ہو سکے۔ تیسرا، دونوں ملکوں کے تعلیمی ڈگریوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو باہمی طور پر تسلیم کرنے کا نظام، اور چوتھا، چاہ بہار اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو بحری معیشت (Blue Economy) کی تربیت کا مرکز بنانا۔ عالمی بینک کے انسانی وسائل کے انڈیکس پر پاکستان کا اسکور 0.41 ہے جو کہ خطے میں کافی کم ہے۔ ایسے میں ایران کی انجینئرنگ اور نینو ٹیکنالوجی کی مہارت اور پاکستان کی سافٹ ویئر سروسز کا ملاپ سرحد کے دونوں طرف معاشی خوشحالی اور استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
