یمن کے صوبہ لحج میں حوثی باغیوں نے ایک فوجی تربیتی کیمپ پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب فوجی صبح کی پریڈ کے لیے جمع ہو رہے تھے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب جنوبی یمن میں کچھ عرصے سے نسبتاً سکون تھا، لیکن اس کارروائی نے سکیورٹی کی صورتحال کو ایک بار پھر نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ مقامی فوجی ذرائع کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ملبے تلے دبے اہلکاروں کی تلاش جاری ہے۔
ایک مقامی کمانڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "باغیوں نے پریڈ گراؤنڈ کو اس وقت نشانہ بنایا جب یونٹس جمع ہو رہے تھے۔ کوئی انتباہ نہیں ملا، صرف ڈرونز کی آواز آئی اور پھر دھماکے شروع ہو گئے۔”
حوثیوں نے تاحال اس حملے کی باضابطہ ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، تاہم ان کے میڈیا چینلز نے اس کارروائی کو "حکومتی کرائے کے فوجیوں” کے خلاف ایک "درست ہدف” قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عدن میں قائم یہ حکومت پہلے ہی جنوبی علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے اور اتحادیوں کے درمیان موجود اندرونی اختلافات کو سنبھالنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ کیمپ پر ہونے والا یہ حملہ سکیورٹی انتظامات کی خامیوں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
کیمپ کے قریب موجود رہائشیوں نے کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی، جس کے بعد علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ قریبی شہر العند کے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کے لیے خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ حملہ اس بات کا غماز ہے کہ یمن میں جاری سفارتی کوششوں اور پس پردہ مذاکرات کے باوجود جنگ کا خاتمہ ابھی دور ہے۔ اس کارروائی نے نہ صرف قیمتی جانیں ضائع کیں بلکہ جنوبی یمن میں طاقت کے توازن کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے حکومت کے لیے ایک ایسا ردعمل دینا مشکل ہو گیا ہے جو علاقے کو مزید عدم استحکام سے بچا سکے۔
عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے یہ اقدام حکومتی زیر کنٹرول علاقوں میں جاری تربیتی سرگرمیوں کو درہم برہم کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اتنے اہم فوجی ہدف پر بغیر کسی سکیورٹی الرٹ کے حملہ کیسے ممکن ہوا؟ اس کا جواب حکومت کے لیے آنے والے دنوں میں ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
