سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اپنی خرابیِ صحت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں "بے بنیاد پروپیگنڈا” قرار دیا ہے۔
منگل کو کراچی میں ایک تقریب کے دوران میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے ان تمام قیاس آرائیوں کا جواب دیا جو گزشتہ کئی ہفتوں سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں موضوع بنی ہوئی تھیں۔ ان افواہوں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما اچانک علیل ہو گئے ہیں اور انہیں ہنگامی طبی امداد کے لیے بیرون ملک منتقل کر دیا گیا ہے۔
"میں یہاں موجود ہوں، کام کر رہا ہوں اور مکمل طور پر صحت مند ہوں،” ناصر شاہ نے صحافیوں کو بتایا۔ انہوں نے ان خبروں کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا۔
سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں تب شروع ہوئیں جب وزیر بلدیات رواں ماہ کے اوائل میں کابینہ کے چند اہم اجلاسوں میں شریک نہیں ہو سکے۔ ان کی غیر موجودگی نے مخالفین کو موقع فراہم کیا کہ وہ ان کے استعفے یا اچانک بیماری کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع کر دیں، جس سے مقامی سطح پر پارٹی کارکنوں میں الجھن پیدا ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ افواہیں دراصل پارٹی کے اندرونی دباؤ اور سیاسی درجہ حرارت کا پتہ دیتی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت کے پیچیدہ حالات کے پیشِ نظر، کابینہ کے کسی بھی رکن کی غیر موجودگی کو اکثر وزارتوں میں تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، ناصر شاہ نے عوامی سطح پر نمودار ہو کر ان قیاس آرائیوں کو دم توڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ناصر شاہ کی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ ان کی حالیہ غیر حاضری کی وجہ ذاتی مصروفیات تھیں، نہ کہ کوئی طبی مسئلہ۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر بلدیات کا آئندہ ہفتے کا شیڈول مکمل طور پر طے شدہ ہے، جس میں کراچی بھر میں جاری نکاسی آب اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کا دورہ شامل ہے۔
اگرچہ ناصر شاہ کی تردید کے بعد فوری طور پر چہ مگوئیاں رک گئی ہیں، لیکن ان افواہوں کا تیزی سے پھیلنا سندھ کی موجودہ سیاسی فضا کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ فی الحال ناصر حسین شاہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور اپنی توجہ انہی بلدیاتی چیلنجز پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں جو ان کی وزارت کی پہچان ہیں۔
