خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو سیاست سے باہر کرنے کا منصوبہ اچانک نہیں بنا، بلکہ اس کا آغاز نومبر 2020 میں ہی ہو چکا تھا۔
گنڈاپور کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس وقت تحریک انصاف اقتدار میں تھی، اسی وقت سے پسِ پردہ ایسی قوتیں متحرک تھیں جنہوں نے ‘مائنس عمران خان’ کا خاکہ تیار کر لیا تھا۔ یہ دعویٰ اس تاثر کو مزید گہرا کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف سازشیں اپریل 2022 کی تحریکِ عدم اعتماد سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے پشاور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ان کا فیصلہ تب ہی ہو چکا تھا کہ عمران خان کو راستے سے ہٹانا ہے۔” اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص شخصیت یا ادارے کا نام لینے سے گریز کیا، لیکن ان کے نشانے پر وہ ‘سٹیبلشمنٹ’ اور سیاسی حریف ہیں جنہیں وہ پی ٹی آئی کی موجودہ مشکلات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
دوسری جانب، موجودہ حکومتی اتحاد ان الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات قانون کا تقاضا ہیں، نہ کہ کسی سیاسی انتقام کا نتیجہ۔ ان کا کہنا ہے کہ گنڈاپور ماضی کے قصے چھیڑ کر دراصل اپنی حکومت کی کارکردگی اور صوبائی مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، گنڈاپور کا یہ بیانیہ پی ٹی آئی کے اس نظریے کو تقویت دیتا ہے کہ ان کی جماعت کو ایک منظم سازش کے تحت دیوار سے لگایا گیا۔ کارکنوں کے لیے، یہ 2020 کا ذکر صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ اس ‘ناانصافی’ کا ثبوت ہے جس کا وہ شکار ہیں۔
یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی سڑکوں پر نکلنے کی دھمکیاں دے رہی ہے، تو دوسری طرف وفاقی حکومت اسے ‘انتشار’ قرار دے کر سختی سے نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
علی امین گنڈاپور کا یہ بیان صرف ماضی کے کسی واقعے کا ذکر نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے کہ تحریک انصاف اب کسی بھی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔ یہ لڑائی اب قانونی عدالتوں سے نکل کر عوامی بیانیے کی عدالت میں فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
