باجوڑ — باجوڑ کے پہاڑی علاقے میں مقامی افراد کے ہاتھوں ایک نایاب چیتے کی ہلاکت کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ واقعہ شمالی مغربی سرحد پر انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کی ایک اور تلخ مثال ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چیتا خوفزدہ ہو کر ایک جگہ محصور ہے اور اسے مشتعل ہجوم نے گھیر رکھا ہے۔ یہ واقعہ ضلع کے ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں پیش آیا، جہاں انسانی آبادیوں کا دائرہ کار تیزی سے قدرتی مسکنوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ضلعی وائلڈ لائف آفیسر فضل ربی نے تصدیق کی ہے کہ محکمہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کی شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا وائلڈ لائف اینڈ بائیو ڈائیورسٹی ایکٹ کے تحت چیتا ایک محفوظ جانور ہے، اور اسے مارنا بھاری جرمانہ اور قید کی سزا کا باعث بن سکتا ہے۔
فضل ربی کا کہنا تھا کہ "ہم ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کا تعین کیا جا سکے۔ جنگلی جانوروں کے انسانی آبادیوں میں داخلے کے لیے واضح پروٹوکول موجود ہیں، اور ہجوم کا تشدد ان میں شامل نہیں۔”
مقامی باشندوں کا موقف ہے کہ چیتا کئی ہفتوں سے مویشیوں کا شکار کر رہا تھا، جس کی وجہ سے دیہاتیوں میں خوف و ہراس پایا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ جنگلات کی کٹائی اور غیر منظم تعمیرات کے باعث ان شکاری جانوروں کے قدرتی راستے سکڑ رہے ہیں۔ جب یہ جانور خوراک کی تلاش میں بلندیوں سے نیچے اترتے ہیں، تو اکثر دیہاتی اپنے مال مویشی بچانے کے لیے انہیں ہلاک کر دیتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف تحقیقات سے یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ان کے نزدیک مویشیوں کے نقصان پر معاوضے کے نظام کا نہ ہونا اس تشدد کی بڑی وجہ ہے۔ جب تک حکومت دیہاتیوں کو مالی تحفظ فراہم نہیں کرتی، وہ جانوروں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے رہیں گے۔
محکمہ وائلڈ لائف کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف تحفظِ جنگلی حیات کے قوانین پر عمل درآمد کرائے اور دوسری طرف دیہی آبادی کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔ جب تک ریاست اس مسئلے کے حل کے لیے متبادل راستے نہیں نکالتی، باجوڑ کی پہاڑیوں میں خوف اور انتقام کا یہ چکر جاری رہنے کا خدشہ ہے۔
