کویت میں گرفتار کیے گئے کویتی نژاد امریکی صحافی احمد شہاب الدین کو عدالت نے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعرات، 23 اپریل 2026 کو سامنے آیا، جبکہ وہ اپنی گرفتاری کے بعد 52 دن حراست میں گزار چکے تھے۔ ان کی قانونی ٹیم اور آزادیٔ صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بریت کے بعد ان کی رہائی متوقع ہے۔
احمد شہاب الدین کو 3 مارچ 2026 کو کویت میں ایک مختصر خاندانی دورے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر غلط معلومات پھیلانے، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے، اور موبائل فون کے غلط استعمال جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ ان کی سماجی رابطوں کی ویب گاہوں اور آن لائن تحریروں سے جڑا تھا، جن میں ایران جنگ سے متعلق مواد اور ایک ایسی ویڈیو بھی شامل تھی جس میں کویت میں امریکی فضائی اڈے کے قریب ایک امریکی لڑاکا طیارے کے حادثے کو دکھایا گیا تھا۔
صحافتی آزادی کی بین الاقوامی تنظیم “کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس” نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ احمد شہاب الدین کے بری ہونے پر انہیں اطمینان ہے، مگر ان کی آزادی اور سلامتی اب بھی اولین ترجیح ہے۔ تنظیم نے اس مقدمے کو ان مثالوں میں شمار کیا جن میں جنگی حالات کے دوران رپورٹنگ اور آن لائن اظہار کو قومی سلامتی کے دائرے میں لا کر سختی سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ مقدمہ اس لیے بھی غیر معمولی سمجھا گیا کیونکہ ناقدین کے مطابق شہاب الدین کے خلاف پیش کیا گیا مواد خفیہ یا پوشیدہ نوعیت کا نہیں تھا، بلکہ اس میں ایسا مواد بھی شامل تھا جو پہلے ہی عوامی سطح پر گردش میں تھا۔ اسی وجہ سے انسانی حقوق اور صحافتی حلقوں میں یہ سوال اٹھا کہ آیا ریاستی ادارے جنگی ماحول میں اطلاعات کے بہاؤ کو زیادہ سختی سے قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
احمد شہاب الدین ماضی میں عوامی نشریاتی ادارے، ایک آن لائن خبر رساں ادارے، نیو یارک ٹائمز، برطانوی نشریاتی ادارے، اور الجزیرہ جیسے اداروں سے وابستہ رہ چکے ہیں، جس کے باعث ان کی گرفتاری نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ کیس صرف ایک صحافی کا قانونی معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ اس بڑے سوال سے جڑا ہوا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے زمانے میں صحافت، سماجی ذرائع ابلاغ اور قومی سلامتی کے قوانین کی حد کہاں تک جاتی ہے۔
اس فیصلے سے قانونی طور پر تو احمد شہاب الدین کے لیے راستہ صاف ہو گیا ہے، مگر یہ واقعہ میڈیا حلقوں کے لیے ایک واضح اشارہ چھوڑ گیا ہے: خطے میں جنگ یا سلامتی کے بحران کے دوران خبر دینا اور الزام کی زد میں آ جانا، دونوں کے درمیان فاصلہ کبھی کبھی بہت کم رہ جاتا ہے۔
