چین نے اپنے مشرقی سمندری علاقوں کی سمندری تہہ میں موجود معدنی عناصر کا پہلا باقاعدہ جیوکیمیکل اٹلس جاری کر دیا ہے۔ بظاہر یہ ایک سائنسی پیش رفت ہے، مگر حقیقت میں یہ اقدام اس عالمی دوڑ کے بیچ سامنے آیا ہے جس میں اہم معدنیات، خاص طور پر صنعتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کے لیے ضروری دھاتیں، غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔
حکومتی اور سرکاری ذرائع کے مطابق یہ نقشے بحیرہ بوہائی، بحیرہ زرد اور مشرقی بحیرہ چین کے ان حصوں پر مبنی ہیں جہاں تقریباً دو دہائیوں تک سمندری ارضیاتی سروے کیے گئے۔ ان نقشوں میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سمندر کی تہہ میں کون سے عناصر کہاں پائے جاتے ہیں، ان کی مقدار کتنی ہے، اور ان کی تقسیم کا نمونہ کیا ہے۔ ان عناصر میں نایاب ارضی دھاتیں، لوہا، مینگنیز اور تانبا شامل ہیں۔
چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بیس برس کے قریب جمع کیے گئے ڈیٹا، ہزاروں نمونوں اور وسیع سائنسی تجزیے کا نتیجہ ہے۔ سادہ لفظوں میں کہیں تو بیجنگ اب یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اسے اپنے مشرقی سمندری خطے کی تہہ کے کیمیائی خدوخال پہلے سے کہیں زیادہ تفصیل سے معلوم ہو چکے ہیں۔
سرکاری مؤقف یہ ہے کہ اس اٹلس سے سمندری منصوبہ بندی، ماحولیاتی تحفظ اور مستقبل میں وسائل کی تلاش میں مدد ملے گی۔ چین جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ کام اس خلا کو پُر کرتا ہے جو ان علاقوں کی سمندری تہہ کے منظم جیوکیمیکل نقشہ سازی میں طویل عرصے سے موجود تھا۔
لیکن یہ صرف سائنس کی خبر نہیں۔ معاملہ اس سے کہیں آگے جاتا ہے۔
دنیا بھر میں حکومتیں اب سمندر کی تہہ کو ان معدنی وسائل کے ممکنہ ذخیرے کے طور پر دیکھ رہی ہیں جو بیٹریوں، برقی آلات، جدید مینوفیکچرنگ اور دفاعی صنعت کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں چین کے اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی اس مسابقت سے جوڑا جا رہا ہے جس میں جاپان بھی گہرے سمندر سے نایاب معدنیات حاصل کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اس لیے چین کے یہ نقشے محض سائنسی اشاعت نہیں بلکہ طویل المدتی تزویراتی سوچ کا حصہ بھی دکھائی دیتے ہیں۔
اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے، اور وہ سکیورٹی سے متعلق ہے۔ حالیہ بین الاقوامی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین بحرالکاہل، بحرِ ہند اور بحیرہ منجمد شمالی سمیت مختلف سمندری خطوں میں زیرِ آب نقشہ سازی اور نگرانی کے کام کو وسعت دے رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے نزدیک سمندر کی تہہ، اس کی ساخت، بہاؤ اور صوتی ماحول سے متعلق معلومات آبدوزوں کی نقل و حرکت اور بحری حکمتِ عملی میں بھی کارآمد ہو سکتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ نئے معدنی نقشے فوجی دستاویزات ہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ سمندری تہہ کے بارے میں تفصیلی معلومات بیک وقت سائنسی، معاشی اور دفاعی اہمیت رکھ سکتی ہیں۔
چینی ذرائع ابلاغ نے اس اشاعت کو زیادہ تر سویلین اور تحقیقی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عناصر کی تقسیم مختلف قدرتی عوامل سے متاثر ہوتی ہے، مثلاً تلچھٹ کے ذرات کا حجم، سمندری دھاراؤں کا اثر، اور بعض علاقوں میں آتش فشانی یا ارضیاتی سرگرمی۔ یعنی یہ نقشے صرف ممکنہ معدنی ذخائر کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ سمندری ماحول اور زمینی ساخت ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جڑی ہوئی ہے۔
تاہم نقشہ سازی اور حقیقی کان کنی کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔ گہرے سمندر میں معدنیات نکالنا نہ صرف مہنگا اور تکنیکی طور پر پیچیدہ کام ہے بلکہ اس پر شدید ماحولیاتی تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام کے کئی حصے اب بھی پوری طرح سمجھے نہیں گئے، اس لیے بڑے پیمانے پر کان کنی کے اثرات کے بارے میں واضح اتفاق رائے موجود نہیں۔
اسی لیے فی الحال یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ چین نے فوری کان کنی کا آغاز نہیں کیا، بلکہ وہ ایک لمبی حکمتِ عملی پر چل رہا ہے: پہلے معلومات جمع کرو، پھر جغرافیہ اور وسائل کو دوسروں سے بہتر سمجھو، اور وقت آنے پر اپنے لیے راستہ کھلا رکھو۔
اصل بات شاید یہی ہے۔ چین صرف یہ نہیں بتا رہا کہ اس کے سمندروں کی تہہ میں کیا ہو سکتا ہے، بلکہ وہ یہ بھی دکھا رہا ہے کہ آج کی دنیا میں معلومات خود ایک تزویراتی طاقت بن چکی ہیں۔
