دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں بہتری آ گئی ہے۔ ہفتے کے آخر میں درمیانے درجے کے سیلاب کے بعد، ہیڈ مرالہ اور خانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ اب نچلی سطح پر آ گیا ہے، جس سے دریائی پٹی کے مکینوں نے کچھ سکھ کا سانس لیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے منگل کو تصدیق کی کہ دریا میں پانی کا بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے۔ اگرچہ فوری سیلابی خطرہ ٹل چکا ہے، لیکن ضلعی انتظامیہ اب بھی الرٹ ہے۔ مون سون کا موسم جاری ہے اور موجودہ وقفہ عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔
نئے موسمیاتی سسٹم کے تحت 29 جولائی سے پنجاب کے بالائی علاقوں میں بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ بارشیں پوٹھوہار ریجن، گوجرانوالہ اور لاہور ڈویژن کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے دریائے چناب اور جہلم کے معاون ندی نالوں میں پانی کی سطح دوبارہ بلند ہونے کا خدشہ ہے۔
سیالکوٹ اور گجرات کے فلڈ کنٹرول رومز کو اپنی نگرانی کے عمل کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح میں کمی کا مطلب مون سون کے خطرے کا خاتمہ نہیں ہے۔ انتظامیہ کی توجہ اب ان کمزور پشتوں پر ہے جو حالیہ ہائی فلو کے دوران متاثر ہوئے تھے۔
نشینی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کے لیے پانی کی سطح کا کم ہونا گھروں اور کھیتوں سے ملبہ ہٹانے کا ایک موقع ہے، تاہم ویک اینڈ پر متوقع بارشوں کے پیشِ نظر بحالی کا یہ وقت محدود ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کی تازہ ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والی بارشیں بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی نشریات پر نظر رکھیں اور پانی کے بہاؤ میں کمی کے باوجود ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔
