قصور — شہر کے نواحی علاقے میں ایک خوفناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک 30 سالہ نوجوان کو اس کے ’دوست‘ نے اغوا کر کے مبینہ طور پر اس کا گردہ نکال لیا۔ متاثرہ شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزم نے متاثرہ نوجوان کو ملاقات کے بہانے بلایا۔ پولیس کے مطابق، ملزم نوجوان کو ورغلا کر ایک نجی گھر لے گیا جہاں اسے یرغمال بنا لیا گیا۔ نشہ آور شے دینے کے بعد مبینہ طور پر ایک گروہ نے سرجری کے ذریعے نوجوان کا گردہ نکال لیا اور اسے نیم مردہ حالت میں ویرانے میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
مقامی افراد نے نوجوان کو سڑک کنارے پڑے دیکھا تو اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال منتقل کیا۔ ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ شخص کا گردہ غیر قانونی طریقے سے نکالا گیا ہے۔
ڈی پی او قصور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے یہ معاملہ ایک منظم آرگن ٹریفکنگ نیٹ ورک کا لگتا ہے۔ پولیس کی ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں، تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی اعضاء کی غیر قانونی منتقلی کے لیے جس مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان میں کوئی پیشہ ور طبی عملہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ کسی ہسپتال کے بغیر، غیر جراثیم سے پاک ماحول میں یہ عمل انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔
یہ واقعہ پنجاب میں انسانی اعضاء کی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کی بڑھتی ہوئی جرات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دعووں کے باوجود، قصور جیسے شہروں میں اس طرح کی سفاکانہ کارروائیاں مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیلا رہی ہیں۔
متاثرہ نوجوان ہسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اسے شدید طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ پولیس اب بھی اس گروہ کے سرغنہ اور ان آلہ کاروں کی تلاش میں ہے جنہوں نے دوستی کے تقدس کو پامال کر کے ایک انسان کی زندگی داؤ پر لگا دی۔
