لندن — سوشل میڈیا اور ریئلٹی ٹی وی کی مشہور امریکی شخصیت کائلی جینر کی میٹا کمپنی کے ساتھ نئی تشہیراتی مہم کمپنی کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک اور عوامی مشکل بن گئی ہے۔ کائلی جینر کے اشتراک سے میٹا کے 399 ڈالرز مالیت کے ‘اسٹار فائر’ اے آئی اسمارٹ گلاسز کی لانچنگ کے فوراً بعد، برطانیہ کے ایک احتجاجی گروپ ‘ایوری ون ہیٹس ایلن’ نے لندن میں میٹا کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کے بالکل باہر موجود بس اسٹاپس کے اشتہاری بورڈز پر خفیہ طور پر قبضہ کر لیا۔ گروپ نے وہاں ایک خاص ٹیکنالوجی والے پوسٹرز لگائے ہیں جو سامنے سے دیکھنے پر کائلی جینر کی گلیمرس تصویر دکھاتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی شخص سائیڈ سے گزرتا ہے، یہ تصویر بدل کر ایک ایکسرے ڈھانچے میں تبدیل ہو جاتی ہے اور نیچے لکھا آتا ہے: "میٹا: ہم ہمیشہ دیکھ رہے ہیں۔” یہ انوکھا انداز 1988 کی ایک مشہور سائنسی فلم ‘دے لِو’ (They Live) سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جس میں عینک کے ذریعے انسانوں پر خلائی مخلوق کا کنٹرول دکھایا گیا تھا۔
احتجاجی گروپ نے میٹا کی اس نئی ڈیوائس کو عوامی تحفظ اور رازداری کے حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کارکنوں کا موقف ہے کہ ان چشموں میں لگے خفیہ کیمروں کی مدد سے پبلک مقامات، واش رومز اور جم جیسی جگہوں پر عام شہریوں اور خواتین کی مرضی کے بغیر ان کی ایچ ڈی ویڈیوز ریکارڈ کی جا سکتی ہیں، جو کہ سراسر غیر اخلاقی ہے۔ یہ احتجاج ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں انکشاف ہوا تھا کہ میٹا ایک ایسے فیچر کی جانچ کر رہا ہے جو ہر چند سیکنڈ بعد صارف کے ارد گرد کی آڈیو اور تصاویر خود بخود ریکارڈ کر کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے اس کے دن بھر کا خلاصہ تیار کرے گا۔ اگرچہ میٹا کا کہنا ہے کہ انہوں نے چشمے میں ایک ایل ای ڈی لائٹ لگائی ہے جو ریکارڈنگ کے وقت جلتی ہے اور اسے چھپانے پر کیمرہ بند ہو جاتا ہے، لیکن انسانی حقوق کے اداروں کا ماننا ہے کہ یہ حفاظتی اقدامات عوامی مقامات پر کسی کی چوری چھپے ویڈیو بنانے سے روکنے کے لیے بالکل ناکافی ہیں۔
