لندن — تفتیشی اداروں نے ایک ایسے منظم نیٹ ورک کا پردہ چاک کر دیا ہے جو جعلی گھوڑوں کے پاسپورٹس کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں جانوروں کو غیر قانونی طور پر ذبیحہ خانوں تک پہنچا رہا تھا۔ حکام کے مطابق، یہ گروہ جانوروں کی نقل و حرکت کے ڈیجیٹل ریکارڈ میں موجود سوراخوں کا فائدہ اٹھا کر ان کی اصل تاریخ اور طبی ریکارڈ چھپاتا رہا۔
گھوڑوں کے پاسپورٹ کا نظام بنیادی طور پر اس لیے بنایا گیا تھا کہ جن جانوروں کو مخصوص ادویات دی گئی ہوں، ان کا گوشت انسانی خوراک کا حصہ نہ بن سکے۔ مگر سمگلروں نے اسی نظام کو دھوکہ دہی کا ہتھیار بنا لیا۔ دستاویزات کی تبدیلی کے ذریعے، انہوں نے ان گھوڑوں کو بھی ‘کلین’ قرار دے کر مارکیٹ میں پہنچا دیا جو طبی لحاظ سے انسانی استعمال کے لیے انتہائی غیر محفوظ تھے۔
کئی برسوں تک یہ تاثر قائم رہا کہ ڈیجیٹل ڈیٹا بیس نے سکیورٹی کو فول پروف بنا دیا ہے۔ تاہم حالیہ تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ نظام اب بھی انتہائی کمزور ہے۔ مجرمانہ گروہ ‘گھوسٹ’ یا خیالی جانوروں کے کاغذات تیار کرتے، اور پھر ان کی آڑ میں ان گھوڑوں کو سمگل کرتے جنہیں ممنوعہ ادویات دی جا چکی تھیں۔
ایک تفتیش کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ صرف کاغذی غلطی نہیں تھی، بلکہ عوامی صحت کے ساتھ سوچی سمجھی دشمنی تھی۔ سمگلرز جانتے تھے کہ کن گھوڑوں کو ‘فینائل بوٹازون’ جیسی ممنوعہ ادویات دی گئی ہیں، اور انہیں کیسے چھپانا ہے۔”
تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ کئی مقامات پر جانوروں کے مائیکرو چپس نکال کر جعلی پاسپورٹس کے ساتھ میچ کیے گئے، جس سے جانوروں کی ٹریس ایبلٹی کا پورا نظام ہی درہم برہم ہو گیا۔ یہ عمل نہ صرف جانوروں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، بلکہ ان کا گوشت کھانے والے انسانوں کے لیے طویل مدتی طبی خطرات بھی پیدا کرتا ہے۔
اگرچہ مرکزی ملزمان اب قانون کی گرفت میں ہیں، لیکن حکام کا ماننا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والے گھوڑوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کا مکمل آڈٹ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس واقعے نے گھوڑوں کی شناخت کے عالمی نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اب جبکہ یہ نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے، فوڈ سیفٹی ریگولیٹرز ایک ایسے خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو دہائیوں سے موجود تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا نظام، جس کی بنیاد اعتماد پر رکھی گئی تھی، کبھی مکمل طور پر محفوظ ہو سکے گا؟
