کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک نوجوان پر وحشیانہ تشدد اور اسے اپنے ہی کٹے ہوئے بال کھانے پر مجبور کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد نے نوجوان کو قابو کر رکھا ہے۔ ایک حملہ آور قینچی سے اس کے بال کاٹ رہا ہے، جس کے بعد وہ زبردستی بالوں کا گچھا نوجوان کے منہ میں ٹھونس دیتا ہے۔ اس دوران پس منظر میں حملہ آوروں کی ہنسی اور تضحیک آمیز جملے بھی سنائی دے رہے ہیں۔ حملہ آوروں نے نوجوان پر چوری کا الزام عائد کیا، تاہم پولیس کے مطابق اس الزام کی تاحال کوئی قانونی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
متاثرہ نوجوان کے اہلخانہ نے درخشاں تھانے میں واقعے کا مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان بااثر ہیں اور علاقے میں قانون کو ہاتھ میں لینے کے عادی ہیں۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور انہیں پکڑنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ منگل کی صبح تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے ان افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔ یہ واقعہ کراچی میں بڑھتے ہوئے "ویجیلانٹے جسٹس” (خود انصاف کرنے) کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں بااثر افراد قانونی راستے اپنانے کے بجائے خود عدالت بن کر فیصلے سناتے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عام آدمی کا نظامِ انصاف پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ جب ملزمان اپنے ہی جرم کی ویڈیو بنا کر اسے وائرل کرنے سے نہیں ڈرتے، تو یہ پولیس اور قانون کے رعب کے خاتمے کی علامت ہے۔
متاثرہ نوجوان کا طبی معائنہ کروایا جا رہا ہے تاکہ تشدد کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ فی الحال ملزمان کی گرفتاری باقی ہے، اور اب یہ دیکھنا ہے کہ کیا قانون ان بااثر افراد تک پہنچ پاتا ہے یا یہ معاملہ بھی دیگر مقدمات کی طرح سرد خانے کی نذر ہو جائے گا۔
