پاکستان کرکٹ ٹیم میں حالیہ بڑی تبدیلیوں اور کئی سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کیے جانے کے بعد، عبوری کوچ مائیک ہیسن نے ان فیصلوں سے براہِ راست لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ ہیسن کے مطابق، ٹیم کے انتخاب میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔
ایک مختصر پریس بریفنگ کے دوران، ہیسن نے واضح کیا کہ ٹیم کی موجودہ ساخت اور کھلاڑیوں کی تبدیلیوں کا فیصلہ مکمل طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی ذمہ داری صرف تکنیکی بہتری اور میچ کی حکمت عملی تک محدود ہے، نہ کہ ٹیم کے انتخاب کے سیاسی فیصلوں میں۔
یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب قومی ٹیم مسلسل خراب کارکردگی کے دباؤ میں ہے۔ سلیکشن کمیٹی کے اس فیصلے نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی متبادل پلان کے تجربہ کار کھلاڑیوں کو باہر کرنا ٹیم کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جائے گا۔ دوسری جانب، بورڈ کا موقف ہے کہ ٹیم کی ساکھ بحال کرنے کے لیے یہ سخت فیصلے ناگزیر تھے۔
نیوزی لینڈ کے سابق کوچ ہیسن، جنہیں ڈریسنگ روم کا ماحول بہتر بنانے کے لیے لایا گیا تھا، بظاہر بورڈ کے ان فیصلوں سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرا کام کھلاڑیوں کی کارکردگی اور تکنیک پر کام کرنا ہے۔ سلیکشن ایک الگ شعبہ ہے اور میں ان تبدیلیوں کا حصہ نہیں تھا۔”
ہیسن کا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ اگر نئے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم نتائج دینے میں ناکام رہی، تو اس کی تمام تر ذمہ داری بورڈ پر عائد ہوگی۔ کوچ نے بروقت یہ وضاحت دے کر خود کو ممکنہ تنقید سے بچانے کی کوشش کی ہے۔
اب اصل امتحان بورڈ کا ہے۔ ٹیم کے اگلے اہم مقابلوں کے دوران یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا سینئر کھلاڑیوں کو باہر کرنا ایک جرات مندانہ قدم تھا یا پھر یہ ایک ایسی غلطی ہے جس نے ٹیم کی مسابقتی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔
