امریکہ کی سابقہ ٹرمپ انتظامیہ نے گرے وولف (سرمئی بھیڑیوں) کو ‘انڈینجڈ اسپیشیز ایکٹ’ کے تحت حاصل وفاقی تحفظ ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کا اطلاق ریاستہائے متحدہ کے نچلے 48 حصوں پر کیا گیا، جس کے بعد ان جنگلی حیات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری وفاقی حکومت سے منتقل ہو کر ریاستی اور قبائلی اداروں کے پاس چلی گئی۔
اس اقدام نے ماہرینِ حیاتیات اور تحفظِ ماحول کے علمبرداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بھیڑیوں کی آبادی ابھی اس سطح پر نہیں پہنچی کہ انہیں مکمل طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے۔ دوسری جانب، امریکی فش اینڈ وائلڈ لائف سروس کا اصرار ہے کہ گرے وولف کی تعداد بحال ہو چکی ہے اور اب انہیں وفاقی نگرانی کی ضرورت نہیں ہے۔
محکمہ کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ "بھیڑیوں نے ہمارے تمام سائنسی اہداف حاصل کر لیے ہیں، اور اب ریاستی انتظام ان کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہے۔”
تاہم، ناقدین اس دلیل کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھیڑیوں کی آبادی صرف شمالی راکیز اور گریٹ لیکس کے علاقوں تک محدود ہے، جبکہ ان کے تاریخی مسکن کے وسیع تر حصوں میں وہ اب بھی ناپید ہیں۔ تحفظ ختم ہونے سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اب ان جانوروں کو شکار اور جال کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں بھیڑیوں کو مویشیوں اور دیگر شکار کے جانوروں کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ پالیسی تبدیلی برسوں سے جاری زرعی گروپوں اور شکاری تنظیموں کی لابنگ کا نتیجہ ہے۔ کسانوں اور چرواہوں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ وفاقی تحفظ کے باعث انہیں اپنے مویشیوں کے دفاع میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ سرکاری اجازت کے بغیر وہ بھیڑیوں کے حملوں کو روکنے سے قاصر تھے۔
ماحول دوست تنظیموں نے اس حکمنامے کو وفاقی عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ فیصلہ ‘انڈینجڈ اسپیشیز ایکٹ’ کی روح کے منافی ہے، جس کے تحت کسی بھی نسل کو تب تک تحفظ ملنا چاہیے جب تک وہ اپنے اصل قدرتی مسکن کے ایک بڑے حصے میں محفوظ نہ ہو جائے۔
اس قانونی جنگ کے بعد اب بھیڑیوں کی قسمت کا فیصلہ وفاقی پالیسی کے بجائے ریاستی سیاست کے رحم و کرم پر ہوگا۔ 1970 کی دہائی کے بعد سے یہ گرے وولف کے تحفظ کی حیثیت میں سب سے بڑی اور متنازعہ تبدیلی ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں امریکی جنگلات اور حیاتیاتی تنوع پر واضح ہوں گے۔
