اے ٹی ایم مشین کے سامنے کھڑے شہری کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ سیکیورٹی کیمرے میں قید ہو گیا۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اجنبی شخص مدد کے بہانے قریب آتا ہے اور چند سیکنڈز کے اندر ہی واردات کر کے فرار ہو جاتا ہے۔
یہ واقعہ منگل کی شب پیش آیا۔ متاثرہ شہری اے ٹی ایم کارڈ ڈالنے کے بعد ٹرانزیکشن میں الجھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے ہمدردی جتاتے ہوئے اسے مشین استعمال کرنے کا طریقہ سمجھانے کی کوشش کی۔ جیسے ہی شہری نے توجہ ہٹائی، ملزم نے اسے قابو کر کے جیب سے نقدی اور موبائل فون نکالا اور تیزی سے باہر کھڑی گاڑی کی جانب بھاگ نکلا۔
پولیس حکام کے مطابق، ملزم نے واردات سے قبل شہری کا پن کوڈ دور سے دیکھ لیا تھا۔ اسے ‘شولڈر سرفنگ’ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے مجرم صارف کے پاس ورڈ تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں اس طرح کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایک مقامی پولیس افسر کا کہنا ہے کہ "اے ٹی ایم پر کسی اجنبی کی مدد قبول کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ اگر مشین کام نہیں کر رہی تو وہاں سے ہٹ جانا ہی بہتر ہے۔ کسی کو بھی اتنا قریب نہ آنے دیں کہ وہ آپ کی ٹرانزیکشن دیکھ سکے۔”
بینک سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق، اے ٹی ایم بوتھ اب مجرموں کے لیے ‘آسان ہدف’ بن چکے ہیں۔ وہ تکنیکی خرابی یا صارف کی پریشانی کا فائدہ اٹھا کر اسے جسمانی طور پر قابو کرنے کا موقع تلاش کرتے ہیں۔
متاثرہ شہری، جو اس واقعے کے بعد صدمے میں ہے، نے پولیس کو بتایا کہ ملزم کا رویہ انتہائی شائستہ اور پرسکون تھا، جس کی وجہ سے اسے کسی خطرے کا گمان تک نہ ہوا۔ مجرموں کی یہی حکمت عملی ہے کہ وہ اعتماد بحال کر کے شکار کو غفلت میں ڈالتے ہیں۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو ثبوت کے طور پر قبضے میں لے لیا ہے اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔ یہ واقعہ شہریوں کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ عوامی مقامات پر اپنے مالی معاملات کے دوران کسی بھی غیر متعلقہ شخص کی مداخلت کو ہرگز برداشت نہ کریں۔
