برطانیہ میں گزشتہ دس برسوں کے دوران ساتویں مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب تبدیل ہوا ہے۔ لیبر پارٹی کے رہنما کیئر سٹارمر کی 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں آمد نے ایک ایسی دہائی کا اختتام کیا ہے جو بریگزٹ، عالمی وبا اور کنزرویٹو پارٹی کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے باعث سیاسی ہلچل سے عبارت رہی۔
مستحکم جمہوریتوں کے لیے یہ رفتار غیر معمولی ہے۔ اسی عرصے میں امریکہ نے تین صدور دیکھے اور جرمنی میں صرف دو چانسلرز تبدیل ہوئے۔ 2014 سے اب تک برطانیہ ڈیوڈ کیمرون، تھریسا مے، بورس جانسن، لِز ٹرس، رشی سونک اور اب کیئر سٹارمر کے ادوار سے گزرا ہے۔ حالیہ انتخابات کے علاوہ، زیادہ تر تبدیلیاں عوامی مینڈیٹ کے بجائے پارٹی کے اندرونی خلفشار کا نتیجہ تھیں۔
"دس برس میں سات وزرائے اعظم” کا اعداد و شمار محض ایک ریکارڈ نہیں، بلکہ حکمران جماعت کی دہائی بھر جاری رہنے والی باہمی جنگ کا نتیجہ ہے۔ 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم نے کیمرون، مے اور جانسن کی حکومتوں کو براہِ راست متاثر کیا۔ 2022 میں لِز ٹرس کا محض 49 دن کا اقتدار اس سیاسی بحران کا نقطہ عروج تھا، جس نے برطانوی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا اور کنزرویٹو پارٹی کی مالی نظم و ضبط کی ساکھ کو زمین بوس کر دیا۔
کیئر سٹارمر کو پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت حاصل ہے، جو ان کے پیشروؤں کو میسر نہیں تھی۔ تاہم، سرکاری اداروں میں پائی جانے والی تھکن اور سیاسی نظام پر عوام کا کم ہوتا ہوا اعتماد ان کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ برطانوی ووٹرز نے صرف لیبر پارٹی کو ووٹ نہیں دیا، بلکہ وہ اس افراتفری سے نجات چاہتے تھے جو گزشتہ دس برسوں کا طرہ امتیاز رہی ہے۔
نئی حکومت کے لیے چیلنج سادہ مگر عملی طور پر کٹھن ہے: استحکام۔ عوام بورس جانسن اور لِز ٹرس کے دور کی روزمرہ کی ڈرامائی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں۔ انہیں اب ایک ایسی حکومت درکار ہے جو خاموشی سے کام کر سکے۔
جمعہ کی صبح ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیئر سٹارمر نے کہا کہ "تبدیلی کا کام فوری طور پر شروع ہو رہا ہے۔” یہ کسی بھی نئے رہنما کا روایتی بیان ہو سکتا ہے، لیکن ایک ایسے ملک کے لیے جس نے ایک نسل کے دوران دنیا بھر سے زیادہ وزرائے اعظم دیکھے ہوں، ووٹرز کی توقعات کا بوجھ کہیں زیادہ ہے۔
سیاسی قیادت کے مسلسل بدلنے کا دور فی الحال ختم ہو چکا ہے، لیکن گزشتہ دہائی کے سیاسی زخم یہ طے کریں گے کہ نئی حکومت اپنے پہلے سو دنوں میں کیا کچھ حاصل کر پاتی ہے۔
