لندن کے دریائے ٹیمز کے کناروں پر سیلز کی بڑھتی ہوئی تعداد خوش آئند ہے، مگر انتظامیہ اور ماہرینِ حیوانات نے سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ ان جانوروں کے بہت قریب جانے سے گریز کریں۔ دریائے ٹیمز کے ساحلوں پر سیلز کا آرام کرنا ایک عام منظر بن چکا ہے، لیکن انسانوں کی بے جا مداخلت اب ان جانوروں اور شہریوں دونوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
پورٹ آف لندن اتھارٹی اور کنزرویشن گروپس کا کہنا ہے کہ لوگ محض ایک تصویر یا ویڈیو بنانے کے چکر میں سیلز کو ہراساں کرتے ہیں۔ یہ جانور دیکھنے میں پرسکون لگ سکتے ہیں، مگر یہ شکاری جانور ہیں۔ اگر انہیں محسوس ہو کہ وہ گھیرے میں ہیں یا کوئی ان کے قریب آ رہا ہے، تو وہ دفاعی پوزیشن لے سکتے ہیں۔
زوولوجیکل سوسائٹی آف لندن کے ایک ماہر نے واضح کیا کہ سیلز پالتو جانور نہیں ہیں۔ ان کے کاٹنے سے نہ صرف گہرا زخم آتا ہے بلکہ ان کے منہ میں موجود جراثیم کی وجہ سے شدید انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے، جس کا علاج عام زخم سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہ جانور ساحل پر دھوپ سینکنے یا آرام کرنے آتے ہیں تاکہ اپنی توانائی بحال کر سکیں۔ جب لوگ یا ان کے پالتو کتے ان کے قریب پہنچتے ہیں، تو سیلز خوفزدہ ہو کر تیزی سے پانی میں چھلانگ لگاتے ہیں۔ اس غیر ضروری بھاگ دوڑ سے ان کی توانائی ضائع ہوتی ہے، جو خاص طور پر کمزور یا چھوٹے سیلز کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انتظامیہ نے رچمنڈ اور ٹیڈنگٹن جیسے مقامات پر شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کتوں کو پٹے سے باندھ کر رکھیں اور سیلز سے کم از کم 50 میٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں۔ کسی بھی صورت میں انہیں خوراک دینے کی کوشش نہ کریں۔
دریائے ٹیمز میں پانی کے معیار میں بہتری کے بعد گزشتہ دو دہائیوں میں سمندری حیات کی بحالی ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن اگر سیلز انسانوں کے بہت زیادہ عادی ہو گئے، تو وہ کشتیوں کے قریب آئیں گے، جس سے ان کے زخمی ہونے یا انجن کے پروں سے ٹکرانے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو کوئی سیل زخمی یا کسی جال میں پھنسی ہوئی نظر آئے، تو خود مدد کرنے کے بجائے فوری طور پر برٹش ڈائیورز میرین لائف ریسکیو کو اطلاع دیں۔
ان جانوروں کو تنہائی درکار ہے۔ انہیں قدرت کے قریب رہنے دیں، اور اپنی اور ان کی حفاظت کے لیے فاصلہ برقرار رکھیں۔
