کارک — مغربی آئرلینڈ کے ساحلی علاقے میں ایک غار سے ملنے والی قدیم نقاشیوں نے تاریخ کے ایک نئے باب کو کھول دیا ہے۔ یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ آئرلینڈ میں آباد ہونے والے پہلے انسان ممکنہ طور پر برفانی دور کے اختتام پر ویلز سے پیدل چل کر یہاں پہنچے تھے۔
چونے کے پتھر سے بنی اس غار میں محققین نے جیومیٹرک اشکال اور جانوروں کے خاکے دریافت کیے ہیں۔ ان نقوش میں موجود نامیاتی مواد کی کاربن ڈیٹنگ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تقریباً 12 ہزار سال پرانے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب سمندری سطح بہت نیچے تھی، جس نے برطانوی جزائر اور آئرلینڈ کے ساحل کے درمیان ایک زمینی راستہ (لینڈ برج) فراہم کر رکھا تھا۔
برسوں تک ماہرین کا خیال تھا کہ آئرلینڈ میں پہلی انسانی بستیاں اسپین اور پرتگال (آئبیرین جزیرہ نما) سے سمندری راستے کے ذریعے آئی تھیں۔ اس نئی دریافت نے اس نظریے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
اس تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر ایلینا وینس کہتی ہیں، "ان نقوش کا انداز ویلز کے علاقے پیمبروک شائر میں ملنے والی قدیم اشیاء سے حیرت انگیز طور پر مماثلت رکھتا ہے۔ یہ سمندری ہجرت کا نہیں، بلکہ ایک پیدل راستے کا ثبوت ہے۔”
غار میں موجود نقوش میں سرخ ہرن اور جنگلی سؤر کی تصاویر نمایاں ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قدیم شکاری ان جانوروں کے جھنڈ کا پیچھا کرتے ہوئے شمال کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اگر یہ نظریہ درست ہے، تو یہ ابتدائی انسان اسی زمینی راستے سے آئرلینڈ پہنچے ہوں گے جو اب آئرش سمندر کی تہہ میں ڈوب چکا ہے۔
یہ مقام گزشتہ نومبر میں ایک مقامی کوہ پیما کو اس وقت ملا جب وہ طوفان سے بچنے کے لیے غار میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ تب سے اس جگہ کو خفیہ رکھا گیا تاکہ نازک نقوش کو نقصان نہ پہنچے۔
یہ دریافت اہم سائنسی سوالات کو بھی جنم دیتی ہے۔ اگر یہ لوگ پیدل آئرلینڈ آئے تھے تو ان کے اوزار یا رہائش گاہوں کے نشانات کیوں نہیں مل رہے؟
ڈاکٹر وینس اس پر کہتی ہیں، "ہمیں صرف ایک غار میں فن پارے ملے ہیں، ابھی تک چولہوں یا اوزاروں کے آثار نہیں ملے۔ اس سے لگتا ہے کہ یہ گروہ خانہ بدوش تھے، جو موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ویلز اور آئرلینڈ کے درمیان سفر کرتے تھے، یہاں تک کہ بڑھتی ہوئی سمندری سطح نے ان کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔”
آثار قدیمہ کی ٹیم اگلے موسم بہار میں دوبارہ غار کا سروے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ فی الحال، یہ نقوش اس قدیم ہجرت کی خاموش گواہی دے رہے ہیں جو ہزاروں سال قبل سمندر کی لہروں تلے دفن ہو گئی تھی۔
