اسلام آباد — وفاقی آئینی عدالت نے منگل کی شب سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ کالعدم قرار دے کر عدالتی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کر دی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ نئی تشکیل پانے والی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے کسی حتمی فیصلے کو براہِ راست چیلنج کرتے ہوئے اسے ختم کیا ہے، جس سے ملک میں عدالتی بالادستی کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
یہ معاملہ وفاقی دارالحکومت میں جائیداد کے حقوق سے متعلق ایک طویل عرصے سے زیر التوا مقدمے پر مبنی تھا، جسے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے گزشتہ ماہ نمٹا دیا تھا۔ آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔
معروف قانون دان حامد خان نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ محض کسی قانونی غلطی کی اصلاح نہیں، بلکہ دو عدالتی اداروں کے درمیان براہِ راست تصادم ہے۔ اس فیصلے کے بعد نچلی عدالتوں اور سائلین کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ حتمی حکم کس کا مانا جائے۔”
آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس آفتاب ملک نے اپنے تحریری فیصلے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے بینچ نے آئین میں موجود راستوں کو نظر انداز کر کے شارٹ کٹ اختیار کیا، جس کی اجازت قانون نہیں دیتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 184(3) کی تشریح میں سپریم کورٹ نے نچلی اپیلٹ فورمز کو نظر انداز کر کے بنیادی حقوق کے عمل کو متاثر کیا۔
اس فیصلے کے بعد فریقین کے لیے صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ جو فریق سپریم کورٹ سے کامیابی حاصل کر چکے تھے، وہ اب دوبارہ قانونی شکنجے میں ہیں، جبکہ ہارنے والے فریق کو غیر متوقع ریلیف ملا ہے۔ یہ صورتحال قانونی حلقوں میں شدید بے چینی کا باعث بنی ہوئی ہے، اور بار ایسوسی ایشنز اب اس "عدالت برائے عدالت” کے قیام پر ہنگامی اجلاس بلانے پر غور کر رہی ہیں۔
حکومتی حلقے تاحال اس معاملے پر خاموش ہیں اور اسے "عدلیہ کا اندرونی معاملہ” قرار دے کر کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تاہم، وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جمعرات کو فل کورٹ اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے تاکہ اس آئینی بحران سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی طے کی جا سکے۔ فی الحال، آئینی عدالت کا فیصلہ نافذ العمل ہے، اور عدالتی درجہ بندی میں پیدا ہونے والا یہ تضاد ملک کے قانونی مستقبل پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
