نئی دہلی میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے دارالحکومت کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے شہر کے لیے ’ریڈ الرٹ‘ جاری کر دیا ہے، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
صبح سویرے سے شروع ہونے والی بارش نے ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا۔ آئی ٹی او، منٹو برج اور ساؤتھ دہلی کی اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں، جہاں گاڑیاں پانی میں پھنسنے کے باعث گھنٹوں ٹریفک جام رہا۔ بلدیاتی اداروں کی جانب سے پانی نکالنے والی مشینیں نصب کی گئی ہیں، مگر برساتی پانی کی مقدار شہر کے پرانے نکاسی آب کے نظام کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔
شہر کے مضافاتی علاقوں میں دیواریں گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ بچوں کو سیلابی صورتحال سے دور رکھا جا سکے۔
شہری منصوبہ بندی کے ایک ماہر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "اتنی قلیل مدت میں ہونے والی بارش کا بوجھ دہلی کا نکاسی آب کا نظام برداشت کرنے کے قابل نہیں، اور جب تک بنیادی ڈھانچے کو جدید نہیں بنایا جاتا، ہر مون سون میں یہی منظر دیکھنے کو ملے گا۔”
بجلی کے نظام پر بھی شدید دباؤ ہے۔ شہر کے کئی حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے، جس کی وجہ سب اسٹیشنوں میں پانی کا داخل ہونا اور نمی کے باعث شارٹ سرکٹ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ اگلے 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دہلی کے لیے یہ طوفانی بارشیں صرف ایک موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ شہر کے بوسیدہ انفراسٹرکچر کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں۔ جب تک بادل برس رہے ہیں، تب تک انتظامیہ کی تمام تر توجہ صرف پانی کی نکاسی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔
