حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 50 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 265 روپے 40 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 20 پیسے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 272 روپے 10 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہو چکا ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جو 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں۔ اس کمی کی بڑی وجہ چین کی صنعتی طلب میں سستی اور امریکی ذخائر میں اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے۔
عام شہری کے لیے یہ ریلیف فوری نوعیت کا ہے؛ ایک عام گاڑی کی ٹینک بھروانے پر اب تقریباً 400 روپے کی بچت ہوگی۔ تاہم، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اس کا اثر فوری طور پر نظر آنے کا امکان کم ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایندھن سستا ہونے کے باوجود کرایوں میں کمی اتنی تیزی سے نہیں کی جاتی جتنی تیزی سے مہنگائی کے وقت اضافہ کیا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران وزارت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ عوام تک پہنچایا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اگلی بار بھی قیمتوں میں کمی متوقع ہے، تو انہوں نے عالمی مارکیٹ کے غیر یقینی اتار چڑھاؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کسی بھی حتمی پیش گوئی سے گریز کیا۔
دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو 70 روپے فی لیٹر کی قانونی حد پر برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ لیوی حکومت کے لیے ریونیو کا ایک اہم ذریعہ ہے، جو عالمی قیمتوں میں کمی کے ثمرات کو براہِ راست عوام تک پہنچنے سے روکتی ہے۔
حکومتی اتحاد کے لیے یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ آئندہ مالیاتی جائزے سے قبل عوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ دو ماہ میں یہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسری کمی ہے، لیکن ملک میں مہنگائی کی شرح اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
عالمی سپلائی چین کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، قیمتوں میں یہ کمی برقرار رہے گی یا نہیں، اس کا دارومدار ویانا میں ہونے والے اوپیک پلس کے اجلاس پر ہے۔ فی الحال، پیٹرول پمپوں پر قیمتیں کچھ کم ضرور ہوئی ہیں، لیکن عام پاکستانی گھرانے پر معاشی بوجھ اب بھی برقرار ہے۔
