ڈھاکہ — شکیب الحسن کا بین الاقوامی کرکٹ کیریئر بظاہر اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے آج تصدیق کی ہے کہ تجربہ کار آل راؤنڈر کو مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے زیر غور نہیں لایا جائے گا۔ بورڈ کی جانب سے یہ فیصلہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے اور شکیب کے سیاسی وابستگیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یہ فیصلہ ملک کے سب سے کامیاب کرکٹر کے کیریئر کا غیر روایتی اور خاموش اختتام ہے۔ شکیب گزشتہ چند ماہ سے بنگلہ دیش میں جاری سیاسی ہنگاموں کی زد میں تھے۔ اگست میں طلبہ تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کے ملک سے فرار کے بعد، شکیب — جو ان کی جماعت عوامی لیگ کے رکن اسمبلی تھے — عوامی غیض و غضب کا نشانہ بنے۔
بی سی بی حکام کو شکیب کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ اسٹیڈیم کے باہر شائقین نے احتجاج کیا، جبکہ ڈھاکا میں ان کے خلاف قانونی شکایات بھی درج کروائی گئیں، جن میں ان پر طلبہ تحریک کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے۔
بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "بورڈ نے واضح موقف اپنایا ہے۔ موجودہ حالات اور ان کے خلاف جاری قانونی چارہ جوئی کو دیکھتے ہوئے، انہیں ڈریسنگ روم میں واپس لانا ایسا خطرہ نہیں جسے ہم مول لے سکیں۔”
شکیب، جن کی عمر 37 برس ہے، اس سے قبل خاموشی سے ریٹائرمنٹ کا عندیہ دے چکے تھے۔ وہ اکتوبر میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز کھیل کر کیریئر ختم کرنا چاہتے تھے، لیکن سیکیورٹی خدشات اور احتجاج کے خطرے کے پیش نظر یہ ممکن نہ ہو سکا۔ وہ سیریز کے دوران دبئی میں ہی مقیم رہے، جو عملی طور پر ٹیسٹ کرکٹ سے ان کی علیحدگی کا اشارہ تھا۔
کرکٹ بورڈ کا یہ فیصلہ ٹیم کو اس سیاسی کشیدگی سے بچانے کی کوشش ہے جس نے بنگلہ دیشی اسپورٹس ایڈمنسٹریشن کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایک ایسا کھلاڑی جس نے برسوں تک قومی ٹیم کی توقعات کا بوجھ اٹھایا، اس کا یہ اختتام انتہائی غیر معمولی ہے۔
شکیب کے لیے اب کوئی باضابطہ الوداعی تقریب نہیں، کوئی آخری میچ نہیں، اور قومی ٹیم میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ بورڈ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شکیب کی سیاسی میراث کی قیمت اب ان کی میدان میں کارکردگی سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔
بی سی بی کی نظریں اب شکیب کے بعد کے دور پر ہیں۔ دوسری جانب، شکیب کے لیے کرکٹ کے بڑے اسٹیج سے عدالتوں تک کا سفر اب مکمل ہو چکا ہے۔
