آج رات برطانیہ کے آسمان پر ایک نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب جزوی چاند گرہن کے دوران چاند کی سطح پر سرخی مائل رنگ بکھر جائے گا۔ یہ منظر اس وقت بنتا ہے جب زمین، سورج اور چاند کے عین درمیان آ جاتی ہے، جس سے زمین کا سایہ چاند کے ایک حصے کو ڈھانپ لیتا ہے۔
مکمل چاند گرہن کے برعکس، جس میں چاند مکمل طور پر اوجھل ہو جاتا ہے، اس جزوی گرہن میں ایسا محسوس ہوگا جیسے چاند کے ایک کنارے سے کوئی حصہ کٹ گیا ہو۔ برطانیہ بھر میں رہنے والے افراد رات گئے اس منظر کو دیکھ سکیں گے، جہاں چاند اپنی معمول کی چمک کھو کر تانبے یا گہرے سرخ رنگ میں ڈھل جائے گا۔
اس سرخی کی وجہ ‘ریلے سکیٹرنگ’ نامی طبیعیاتی عمل ہے۔ جب سورج کی روشنی زمین کے کرہ ہوائی سے گزرتی ہے، تو نیلی روشنی بکھر جاتی ہے جبکہ لمبی طول موج والی سرخ روشنی مڑ کر چاند کی سطح پر پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غروبِ آفتاب کے وقت آسمان سرخ دکھائی دیتا ہے، اور آج رات یہی روشنی چاند پر منعکس ہوگی۔
رائل آبزرویٹری کی ماہر فلکیات ڈاکٹر سارہ جینکنز کا کہنا ہے کہ "اس کے لیے کسی دوربین کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آسمان صاف رہا تو آپ اسے ننگی آنکھ سے باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ چاند کے جنوبی حصے پر سایہ پھیلتے ہوئے دیکھنا ایک دلچسپ تجربہ ہوگا۔”
نظارے کا انحصار مکمل طور پر موسم پر ہے۔ اگرچہ برطانیہ کے کچھ علاقوں میں بادل چھائے رہنے کا امکان ہے، لیکن مغربی حصوں میں رہنے والوں کے لیے آسمان صاف رہنے کی توقع زیادہ ہے۔ گرہن کا آغاز اس وقت ہوگا جب چاند زمین کے بیرونی سائے میں داخل ہوگا، جسے ‘پینمبرا’ کہا جاتا ہے، جس کے بعد اصل تاریک سایہ چاند پر نمودار ہونا شروع ہوگا۔
یہ رواں برس پیش آنے والے فلکیاتی واقعات کی کڑی ہے، لیکن عام لوگوں کے لیے یہ نظام شمسی کی حرکیات کو قریب سے دیکھنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ "بلڈ مون” کا تاثر مکمل گرہن کے ساتھ جڑا ہے، لیکن جزوی گرہن کا یہ مدھم سرخ رنگ ایک الگ اور منفرد تاثر چھوڑتا ہے۔
گرہن اپنے عروج پر نصف شب سے کچھ دیر پہلے پہنچے گا۔ جو لوگ اس عمل کو مکمل طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، انہیں رات کے ابتدائی پہر سے ہی نظریں آسمان پر جمانا ہوں گی، کیونکہ چاند کی روشنی میں کمی کا عمل بہت آہستہ آہستہ شروع ہوتا ہے۔
آج رات کا یہ منظر محض ایک فلکیاتی واقعہ نہیں، بلکہ کائنات کے ان اصولوں کا عملی مظاہرہ ہے جو زمین اور چاند کو ایک خاص توازن میں جوڑے ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانیہ کا موسم ماہرین کی پیش گوئی کے مطابق ساتھ دیتا ہے یا نہیں۔
