امریکی حکام نے ایک افغان خاتون کو ملک بدر کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ‘ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ’ کے قیام کے تین دہائیوں بعد اس کا پہلا کامیاب استعمال ہے۔ اس اقدام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن اب قومی سلامتی کے معاملات میں روایتی عدالتی نظام کے بجائے خفیہ قانونی راستوں کو ترجیح دے رہا ہے۔
اس خاتون کی شناخت عدالتی احکامات کے تحت صیغہ راز میں رکھی گئی ہے۔ یہ کیس انتہائی خاموشی سے نمٹایا گیا، جس میں پبلک ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے بجائے خفیہ معلومات کی بنیاد پر فیصلہ صادر کیا گیا۔ امریکی محکمہ انصاف نے برسوں تک اس عدالت کو غیر فعال رکھا تھا، مگر اب اسے غیر ملکی شہریوں کو تیزی سے ملک بدر کرنے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ عدالت 1996 کے ‘انسداد دہشت گردی ایکٹ’ کے تحت قائم کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد حکومت کو یہ اختیار دینا تھا کہ وہ جج کے سامنے ایسی خفیہ دستاویزات پیش کر سکے جنہیں ملزم یا اس کے وکیل تک رسائی نہ ہو۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار امریکی عدالتی نظام کے بنیادی اصول ‘حقِ دفاع’ کی نفی کرتا ہے، کیونکہ ملزم کو یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ اس کے خلاف کیا ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔
افغان خاتون کے خلاف کیس کا مرکز مبینہ طور پر انتہا پسند نیٹ ورکس سے روابط تھے۔ چونکہ حکومت نے کلاسیفائیڈ انٹیلی جنس پر انحصار کیا، اس لیے عوامی سطح پر یہ کبھی واضح نہیں ہو سکا کہ ٹھوس شواہد کیا تھے۔ اس کیس میں وکیلوں پر بھی شدید پابندیاں عائد تھیں، جس کی وجہ سے دفاع کے لیے بہت کم گنجائش باقی رہ گئی تھی۔
شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والے گروپس نے اس کارروائی کو ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت خفیہ عدالتوں کا سہارا لیتی ہے، تو وہ ان قانونی رکاوٹوں سے بچ جاتی ہے جو فیڈرل کرمنل کورٹ میں لازم ہوتی ہیں۔ اس عمل سے متاثرہ شخص کے لیے خود کو بے گناہ ثابت کرنے کا راستہ تقریباً بند ہو جاتا ہے۔
محکمہ انصاف نے خاتون کی موجودہ نقل و حرکت یا ملک بدری کے طریقہ کار پر کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس کیس کا منطقی انجام یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے قومی سلامتی کے نام پر عدالتی شفافیت کو نظر انداز کرنے کا ایک ایسا راستہ کھول لیا ہے جس پر اب مزید پیش رفت کا امکان موجود ہے۔
