وزیراعظم شہباز شریف نے آج ’مرکزِ حق‘ اعلامیے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اسے پاکستان کی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ قرار دیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے گزشتہ برس سرحد پر کشیدگی کے دوران کیے گئے فیصلوں کو ریاست کی خود مختاری کا "تاریخی اظہار” قرار دیا۔
یہ سالگرہ اس حکومتی ردعمل کے گرد گھومتی ہے جسے گزشتہ سال لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیزی کے بعد اپنایا گیا تھا۔ اس وقت حکومت پر شدید دباؤ تھا کہ وہ روایتی "تحمل” کی پالیسی ترک کر کے سخت فوجی مؤقف اختیار کرے۔ تاہم، شہباز شریف کی کابینہ نے ایک متوازن ردعمل کا انتخاب کیا، جس میں درست ٹیکٹیکل اقدامات کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو شامل کیا گیا تاکہ نئی دہلی کے بیانیے کو بے اثر کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے تقریب کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم نے صرف ردعمل نہیں دیا، بلکہ خطے کے پورے مکالمے کو نئے سرے سے ترتیب دیا۔” انہوں نے اس ردعمل کو ایک ایسا حساب شدہ فیصلہ قرار دیا جس نے نہ صرف ایک بڑی جنگ کے خطرے کو ٹالا بلکہ عالمی مبصرین کو بھی متنازع علاقے کی کشیدہ صورتحال کا نوٹس لینے پر مجبور کیا۔
موجودہ حکومت کے لیے یہ سالگرہ دوہرے مقصد کی حامل ہے۔ ایک جانب یہ قیادت کی اس صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ بیرونی خطرات سے نمٹنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے، تو دوسری جانب یہ ان ناقدین کے لیے بھی جواب ہے جو ماضی میں حکومت پر خارجہ پالیسی میں کمزور رویہ اپنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
تاہم، اپوزیشن اس یادگاری تقریب کو مختلف نظر سے دیکھتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ "تاریخی جواب” دراصل ایک منظم پی آر مہم کے سوا کچھ نہیں، جس کا مقصد ملک کے اندرونی معاشی بحران سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ جب حکومت اپنی سفارتی فتح کے گن گا رہی ہے، تو زمینی حقائق یہ ہیں کہ تجارتی تعلقات اور سرحد پار سیکیورٹی کے مسائل جوں کے توں ہیں۔
سیکیورٹی تجزیہ کار اس کے طویل مدتی اثرات پر منقسم ہیں۔ جہاں حکومت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ برس کے واقعات نے قومی وقار کو بحال کیا، وہیں زمینی حقائق — جن میں وقفے وقفے سے جھڑپیں اور سفارتی چینلز کی منجمد صورتحال شامل ہے — یہ بتاتے ہیں کہ ’مرکزِ حق‘ کے جواب نے شاید کچھ وقت تو خریدا ہو، لیکن یہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان بنیادی تناؤ کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
حکومت اس بیانیے پر جتنا زور دے رہی ہے، اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ جارحانہ مؤقف کسی پائیدار علاقائی ڈھانچے میں ڈھل سکے گا، یا پھر یہ ایک دائمی کشیدگی کے چکر میں محض ایک علامتی فتح بن کر رہ جائے گا۔
