افغانستان میں طالبان کی حکومت کو عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جب روس نے باضابطہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ماسکو نے کابل کی قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات کی خواہش کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے۔
روسی صدر کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے، زامیر کابلوف نے سرکاری خبر رساں ادارے RIA Novosti کو بتایا کہ روس نے طالبان کو تسلیم کر لیا ہے، جو خود کو "اسلامی امارت افغانستان” کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ روس کی وزارتِ خارجہ نے بھی TASS نیوز ایجنسی کو اس فیصلے کی تصدیق کر دی ہے۔
طالبان کی قیادت کا ردعمل
افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے روس کے اس فیصلے کو جراتمندانہ قرار دیا۔ کابل میں روسی سفیر دمتری ژیرنوف کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر شیئر کی گئی، جس میں متقی نے کہا:
"یہ ایک بہادرانہ فیصلہ ہے، جو دوسروں کے لیے مثال بنے گا۔ اب جب کہ تسلیم کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے، روس سب سے آگے رہا۔”
علاقائی اور عالمی تناظر
روس کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے بیشتر ممالک ابھی تک طالبان حکومت کو رسمی طور پر تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں، بالخصوص خواتین کے حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور جامع حکومت سازی جیسے معاملات پر تحفظات کے باعث۔
تاہم، روس نے عملی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے کابل کے ساتھ براہِ راست تعلقات استوار کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں علاقائی سفارت کاری اور اقتصادی تعاون کے تناظر میں۔
کیا دوسرے ممالک بھی پیروی کریں گے؟
روس کے اس اقدام نے دیگر ممالک کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چین، ایران، ترکی، قطر اور دیگر علاقائی طاقتیں کیا موقف اختیار کرتی ہیں، اور آیا وہ بھی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتی ہیں یا نہیں۔
نتیجہ
روس کی جانب سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنا ایک بڑی جغرافیائی سیاسی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ جہاں ایک طرف یہ قدم افغانستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر قبولیت کی راہ ہموار کر سکتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ مغربی ممالک کے لیے ایک سفارتی چیلنج بھی بن سکتا ہے۔
