اسلام آباد: وفاقی حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے نئے نظام کے تحت 21 اگست 2026 کے لیے پٹرول کی قیمت میں 27 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 337 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل پٹرول 337 روپے 51 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 64 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 364 روپے 70 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
نئی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں
21 اگست سے نافذ ہونے والی نئی قیمتیں یہ ہیں:
- پٹرول: 337 روپے 78 پیسے فی لیٹر — 27 پیسے اضافہ
- ہائی اسپیڈ ڈیزل: 364 روپے 70 پیسے فی لیٹر — 1 روپے 64 پیسے اضافہ
حکومت نے یہ نئی قیمتیں نظرثانی شدہ پٹرولیم پرائسنگ میکانزم کے تحت مقرر کی ہیں، جس کے تحت ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اب روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صرف ایک روز قبل، یعنی 20 اگست کے لیے بھی پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 97 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
20 اگست کو پٹرول کی قیمت 334 روپے 54 پیسے سے بڑھا کر 337 روپے 51 پیسے فی لیٹر کردی گئی تھی۔
روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کے نئے نظام کا مقصد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور دیگر متعلقہ عوامل میں تبدیلی کے مطابق مقامی پٹرولیم قیمتوں کو زیادہ تیزی سے ایڈجسٹ کرنا ہے۔
ڈیزل بھی مہنگا ہوگیا
پٹرول کے ساتھ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 1 روپے 64 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، زراعت اور دیگر کاروباری شعبوں پر پڑ سکتا ہے کیونکہ ٹرک، بسیں، زرعی مشینری اور متعدد کمرشل گاڑیاں ڈیزل استعمال کرتی ہیں۔
عوام پر ممکنہ اثرات
پٹرول میں 27 پیسے کا حالیہ اضافہ نسبتاً معمولی ہے، تاہم گزشتہ چند دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں کے باعث صارفین کی تشویش برقرار ہے۔
پٹرول کی قیمت بڑھنے سے موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والے افراد کے سفری اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ طویل مدت میں ٹرانسپورٹ اور ڈیلیوری کے اخراجات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
21 اگست 2026 کے لیے نئی قیمتیں جمعہ سے نافذ ہوں گی اور روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کے موجودہ نظام کے تحت مزید تبدیلی ممکن ہے۔
