جارج ٹاؤن — ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے تحت امریکہ سے ڈیپورٹ کیے گئے کیوبا اور افغانستان کے شہریوں کا پہلا گروپ منگل کے روز گیانا پہنچ گیا۔
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے چارٹر کی گئی پرواز مقامی وقت کے مطابق علی الصبح چیڈی جیگن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری۔ گیانا کے حکام، جو اس اچانک آمد کے لیے تیار نہیں تھے، نے بین الاقوامی امدادی اداروں کے ساتھ مل کر ان افراد کو سنبھالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات شروع کر دیے۔
ڈیپورٹ کیے گئے افراد میں خاندان اور تنہا افراد شامل ہیں، جنہیں امریکہ میں حراستی مراکز میں رکھنے کے بعد گیانا منتقل کیا گیا۔ امریکی حکومت اسے علاقائی ٹرانزٹ معاہدوں کا حصہ قرار دے رہی ہے، تاہم اس اقدام نے گیانا کے پہلے سے محدود سرحدی نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
گیانا کے محکمہ امیگریشن کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ایک ایسی صورتحال سے نمٹ رہے ہیں جسے ہم نے پیدا نہیں کیا۔ ہماری ٹیم فی الحال ہر فرد کی حیثیت کا تعین کر رہی ہے، لیکن ہمارے پاس اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سنبھالنے کے لیے کوئی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔”
افغان مہاجرین کے لیے، جن میں سے بیشتر نے 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد ملک چھوڑا تھا، یہ ملک بدری ان کی پناہ کی درخواستوں کا اچانک خاتمہ ہے۔ واشنگٹن میں انسانی حقوق کے وکلاء کا کہنا ہے کہ امریکہ پناہ کے روایتی پروٹوکولز کو نظر انداز کر کے مہاجرین کو ایسے تیسرے ملک منتقل کر رہا ہے جہاں انہیں طویل مدتی آباد کاری کے لیے کوئی قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا موقف ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ان کی نئی انتظامی ہدایات کے مطابق ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس پالیسی کا مقصد علاقائی شراکت داروں کی مدد سے امریکہ-میکسیکو سرحد پر دباؤ کو کم کرنا ہے۔
انسانی حقوق کے مبصرین اس اقدام کو ایک خطرناک جغرافیائی سیاسی کھیل قرار دے رہے ہیں۔ واشنگٹن اور جارج ٹاؤن کے درمیان اس پرواز کی تفصیلات کے حوالے سے شفافیت کا فقدان مقامی این جی اوز کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمزور طبقات کو ایسے ملک میں چھوڑنا جو خود مہاجرین کے دباؤ کا شکار ہے، انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
منگل کی شام تک، یہ تارکین وطن ایئرپورٹ کے قریب ایک مخصوص علاقے میں موجود تھے۔ گیانا کی حکومت بدھ کے روز ایک ہنگامی کابینہ اجلاس میں فیصلہ کرے گی کہ آیا ان افراد کو عارضی ورک پرمٹ دیے جائیں گے یا انہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
جارج ٹاؤن میں پھنسے ان خاندانوں کے لیے غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ وہ ایک ایسے ملک میں پہنچ چکے ہیں جس کا انتخاب انہوں نے نہیں کیا تھا، اور ان کے پاس اب نہ تو پناہ کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی کہیں اور جانے کا کوئی ٹھکانہ۔
