ویسٹ سسیکس، انگلینڈ — نیپ اسٹیٹ کے وسیع و عریض میدانوں میں اس وقت کچھ غیر معمولی چرواہے اپنا کام کر رہے ہیں۔ یہاں 3,500 ایکڑ رقبے پر پھیلی زمین پر نایاب نسل کی ‘اولڈ انگلش لانگ ہارن’ گائیں کسی تجارتی فارمنگ کا حصہ نہیں، بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی تجربے کی معمار ہیں۔
کبھی یہ زمین ایک روایتی اور منافع بخش فارم ہوا کرتی تھی، لیکن دو دہائیوں قبل یہاں کے مالکان نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے جدید کاشتکاری کے طریقوں کو خیرباد کہہ کر زمین کو دوبارہ قدرتی حالت میں لانے کا منصوبہ شروع کیا۔ اس کا مرکزی کردار یہ گائیں ہیں، جو قدیم زمانے کے ‘اوروکس’ نامی جنگلی بیلوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔
یہ گائیں صرف گھاس نہیں چرتیں۔ ان کے چلنے، چرنے اور زمین کو روندنے کے انداز نے یہاں کی نباتات کا نقشہ بدل دیا ہے۔ جدید مشینری سے کٹی ہوئی فصلیں یکساں ہوتی ہیں، جبکہ یہ گائیں گھاس اور جھاڑیوں کو بے قاعدہ طریقے سے کھاتی ہیں، جس سے زمین پر مختلف اونچائیوں والی پودوں کی ایک ایسی دنیا بنتی ہے جو نایاب کیڑوں اور پرندوں کے لیے پناہ گاہ کا کام کرتی ہے۔
منصوبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ "ہم نے زمین کو کنٹرول کرنے کے بجائے جانوروں کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع دیا ہے کہ یہاں کا قدرتی ماحول کیسا ہونا چاہیے۔”
نتائج توقع سے کہیں زیادہ بہتر رہے ہیں۔ نیپ اسٹیٹ اب برطانیہ میں ‘ٹرٹل ڈوو’ نامی پرندے کی سب سے بڑی افزائش گاہ بن چکا ہے، جو کہ برطانیہ کے دیگر حصوں سے تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ یہ گائیں ‘ایکوسسٹم انجینئرز’ کے طور پر کام کرتی ہیں، جو جھاڑیوں کو کنٹرول میں رکھتی ہیں تاکہ زمین مکمل طور پر جنگل میں تبدیل نہ ہو جائے اور کھلے میدانوں کا توازن برقرار رہے۔
روایتی فارمنگ کے برعکس، یہاں جانوروں کو کسی مصنوعی خوراک یا ادویات کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ سارا سال قدرتی ماحول میں پلتے ہیں، اور ان کا فضلہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے، جس سے زمین کے اندر ایسے مفید بیکٹیریا اور کیڑے واپس آ رہے ہیں جو کیمیائی کھادوں کے استعمال سے ختم ہو چکے تھے۔
برطانیہ میں ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، اور نیپ اسٹیٹ کا یہ ماڈل ایک نئی راہ دکھا رہا ہے۔ یہ صرف ایک تجربہ نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین کا بہترین انتظام اسے انسان کے تسلط سے نکال کر فطرت کے سپرد کرنے میں ہی مضمر ہے۔
