آسٹریلیا نے منگل کو ایک نیا مسودۂ قانون پیش کیا ہے جس کے تحت میٹا، گوگل اور ٹک ٹاک جیسے بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مقامی نیوز اداروں سے ادائیگی کے معاہدے کرنا ہوں گے، ورنہ ان کی آسٹریلوی آمدن پر 2.25 فیصد لیوی عائد کی جا سکتی ہے۔ حکومت نے اس تجویز کو “نیوز بارگیننگ انسینٹو” کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ مقصد مقامی صحافت کو مالی سہارا دینا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی نیوز رومز آمدن کے دباؤ کا شکار ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ منصوبہ سیدھا سادا ٹیکس نہیں بلکہ ایک دباؤ والا مالیاتی ڈھانچہ ہے، تاکہ بڑی ٹیک کمپنیاں رضاکارانہ تجارتی معاہدوں کی طرف آئیں۔ موجودہ رپورٹوں کے مطابق اگر پلیٹ فارمز مقامی پبلشرز کے ساتھ معاہدے کرتے ہیں تو وہ اس مجوزہ چارج کے خلاف آف سیٹ حاصل کر سکتے ہیں، اور چھوٹے یا علاقائی میڈیا اداروں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر زیادہ رعایت بھی دی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم انتھونی البانیزے نے اس اقدام کو جمہوری نظام اور عوامی مفاد کی صحافت سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ صحافتی مواد کی قدر ہے اور بڑی ٹیک کمپنیاں اس سے الگ ہو کر فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق یہ قانون صرف انہی بڑی کمپنیوں پر لاگو ہوگا جو آسٹریلیا میں بھاری آمدن اور نمایاں صارف بنیاد رکھتی ہیں؛ بعض رپورٹوں میں اس حد کو سالانہ 25 کروڑ آسٹریلوی ڈالر کے قریب بتایا گیا ہے۔
یہ پیش رفت دراصل آسٹریلیا کی اسی پالیسی لڑائی کا اگلا مرحلہ ہے جو 2021 کے نیوز میڈیا بارگیننگ کوڈ سے شروع ہوئی تھی۔ اُس قانون کے بعد پلیٹ فارمز اور پبلشرز کے درمیان کئی ادائیگی معاہدے ہوئے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ حکومت اور میڈیا اداروں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ نظام میں خلا باقی رہ گیا، کیونکہ کوئی پلیٹ فارم خبروں کی موجودگی کم کر کے یا معاہدے کی تجدید نہ کر کے دباؤ سے بچ سکتا ہے۔ نیا فریم ورک اسی کمزوری کو بند کرنے کی کوشش ہے۔
دوسری طرف ٹیک کمپنیوں کی مزاحمت بھی سامنے آ گئی ہے۔ میٹا نے اس تجویز کو عملاً ایک ڈیجیٹل سروسز ٹیکس قرار دیا ہے، جبکہ گوگل کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی آسٹریلیا کے درجنوں بلکہ سینکڑوں نیوز اداروں کے ساتھ شراکت داری رکھتا ہے، اس لیے نئی لیوی غیر ضروری اور غیرمنصفانہ ہے۔ موجودہ رپورٹوں میں ٹک ٹاک کا نام بھی مجوزہ قانون کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے، اگرچہ ابتدائی مرحلے میں اس کا تفصیلی ردِعمل محدود دکھائی دیا۔
اس مجوزہ نظام کے مالی اثرات بھی خاصے بڑے ہو سکتے ہیں۔ خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق اس اقدام سے سالانہ تقریباً 20 کروڑ سے 25 کروڑ آسٹریلوی ڈالر تک صحافت کے شعبے میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ آسٹریلوی وزیرِ مواصلات انیکا ویلز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رقم کی تقسیم میں نیوز اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں کی تعداد کو بھی ایک اہم معیار بنایا جا سکتا ہے، تاکہ محض بڑے برانڈز ہی نہیں بلکہ عملی صحافتی ڈھانچے کو سہارا ملے۔
حکومت کا ارادہ ہے کہ یہ قانون 2 جولائی 2026 تک پارلیمان میں پیش کیا جائے۔ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو آسٹریلیا ایک بار پھر دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہوگا جو بگ ٹیک اور نیوز انڈسٹری کے درمیان مالی تعلقات کو قانون کے ذریعے نئے سرے سے متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ صرف آسٹریلیا تک محدود نہیں رہے گا؛ امکان ہے کہ دوسرے ممالک بھی اس ماڈل کو قریب سے دیکھیں گے کہ آیا اس کے ذریعے صحافت کو واقعی پائیدار مالی سہارا دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
