وفاقی حکومت نے ملکی پاسپورٹ کے حصول کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد برسوں پرانی اور فرسودہ ٹیکنالوجی کو تبدیل کر کے ایک ایسا ڈیجیٹل نیٹ ورک قائم کرنا ہے جو نہ صرف تیز رفتار ہو بلکہ شہریوں کو درپیش طویل انتظار کی کوفت سے بھی نجات دلا سکے۔ وزارت داخلہ کے حکام نے بدھ کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے، جس کا بنیادی ہدف پاسپورٹ کے اجراء میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاسپورٹ آفس کا نظام شدید دباؤ کا شکار تھا۔ بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پرانے سرورز کے باعث سسٹم اکثر بیٹھ جاتا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں درخواست گزار مہینوں تک اپنے پاسپورٹ کے منتظر رہتے تھے۔ اب اس پورے نظام کو کلاؤڈ بیسڈ آرکیٹیکچر پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے وہ دفتری مراحل خودکار ہو جائیں گے جن کے لیے پہلے فائلوں کو ایک سے دوسرے ڈیسک تک دستی طور پر پہنچانا پڑتا تھا۔ اس اپ گریڈیشن کے تین اہم ستون ہیں۔ پہلا، ریجنل دفاتر میں جدید ہارڈویئر کی تنصیب؛ دوسرا، نادرا کے ساتھ بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کو مزید مستحکم کرنا؛ اور تیسرا، پرنٹنگ کے عمل کو تیز تر بنانا۔ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے سسٹم کے مکمل فعال ہونے کے بعد پاسپورٹ کی چھپائی کے وقت میں 40 فیصد تک کمی متوقع ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر نے اس تبدیلی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس نظام سے جان چھڑا رہے ہیں جس نے گزشتہ دہائی میں صرف تعطل پیدا کیا۔ ہمارا مقصد ایک ایسا نظام لانا ہے جہاں شہری کو پاسپورٹ کی فراہمی ایک یقینی اور مختصر وقت میں ممکن ہو سکے۔” تاہم، اس منتقلی کا مرحلہ فوری طور پر شہریوں کے لیے کچھ مشکلات بھی لایا ہے۔ ملک بھر کے کئی دفاتر میں سرور کی منتقلی کے عمل کے باعث خدمات عارضی طور پر متاثر ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے قطاریں مزید لمبی ہو گئی ہیں۔ وزارت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسٹیٹس اپ ڈیٹس کے لیے آن لائن پورٹل کا استعمال کریں، اگرچہ بہت سے صارفین کا شکوہ ہے کہ یہ ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم اکثر زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محض سافٹ ویئر اپ گریڈ کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ جب تک پرنٹنگ مشینوں کی تعداد میں اضافہ اور لیمینیشن پیپر کی بلاتعطل فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک یہ تکنیکی بہتری ایک محدود حد تک ہی اثر دکھا سکے گی۔ حکومت نے اگلے سہ ماہی کے اختتام تک اس نئے سسٹم کو تمام بڑے شہروں میں مکمل طور پر فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ ڈیجیٹل تبدیلی واقعی پاسپورٹ کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو ختم کر پائے گی یا یہ شہریوں کے لیے ایک اور پیچیدہ تجربہ ثابت ہوگی۔
