اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن (او پی ایف) نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں اور اہلیہ کے لیے اسکالرشپ پروگرام متعارف کرا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان خاندانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کی راہ ہموار کرنا ہے جو پاکستان میں پروفیشنل ڈگری پروگرامز میں داخلہ لے رہے ہیں۔ یہ وظائف انجینئرنگ، میڈیسن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں دستیاب ہوں گے۔ حکام کے مطابق، اسکالرشپ ان طلباء کے لیے ہے جو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تسلیم شدہ سرکاری یا نجی یونیورسٹیوں میں انڈرگریجویٹ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی تعلیمی اخراجات کے پیشِ نظر یہ پروگرام تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم ریلیف ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ترسیلاتِ زر کے ذریعے قومی معیشت میں بڑا حصہ ڈالتے ہیں، تاہم ان کے اہل خانہ کو اکثر پاکستان میں تعلیمی اداروں میں داخلوں اور اخراجات کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسکالرشپ انہی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ درخواست کا عمل او پی ایف کے آن لائن پورٹل کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ امیدواروں کو اپنے والدین یا شوہر کے بیرونِ ملک ملازمت کے ثبوت، پاکستان میں رہائش کی تصدیق شدہ دستاویزات اور تعلیمی ریکارڈ جمع کرانا ہوگا۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ انتخاب میں تعلیمی قابلیت اور مالی ضرورت کو ترجیح دی جائے گی۔ ماضی میں اسکالرشپ کے عمل پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ او پی ایف نے اس بار اپنے اندرونی نظام میں تبدیلی کا دعویٰ کیا ہے، جس میں ایک نیا ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ درخواست دہندگان اپنی درخواست کی موجودہ صورتحال کو براہِ راست مانیٹر کر سکیں۔ تاہم، مستفید ہونے والے طلباء کی حتمی تعداد پر اب بھی ابہام موجود ہے۔ حکومتی حلقے اسے فلاحی منصوبوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آنے والے تعلیمی سال کے لیے کل کتنے وظائف مختص کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک بریفنگ کے دوران او پی ایف کے ترجمان نے کہا، "ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ہمارے بیرونِ ملک مقیم ہیروز کے بچے صرف اس وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہیں کہ وہ مختلف معاشی حالات میں رہ رہے ہیں۔” درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ رواں ماہ کے آخر تک ہے۔ فاؤنڈیشن نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پورٹل بند ہونے سے قبل اپنی دستاویزات مکمل کر لیں، بصورتِ دیگر درخواست خودکار طریقے سے مسترد ہو جائے گی۔
