لاہور — پنجاب بھر میں مون سون کی طوفانی بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر حکومتِ پنجاب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات میں توسیع پر غور کر رہی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بچوں، اساتذہ اور عملے کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ اسکول ایجوکیشن کو سفارش کی ہے کہ متاثرہ اضلاع میں اسکولوں کو اس وقت تک نہ کھولا جائے جب تک سیلابی پانی مکمل طور پر نہیں اتر جاتا، جس کے نتیجے میں تعلیمی ادارے یکم ستمبر 2026 تک بند رکھے جا سکتے ہیں۔ حتمی منظوری کے منتظر اس فیصلے کے علاوہ، حکومت نے کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کو مون سون کی بارشوں سے متاثرہ اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کا معائنہ کرنے کی بھی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کا چوتھا سلسلہ 5 اگست 2026 تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے دریاؤں اور نالوں میں طغیانی، نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور مری، گلیات سمیت پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرات منڈلا رہے ہیں۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور سرگودھا سمیت کئی اضلاع میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکومت موسمی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے تاکہ اسکولوں کی بندش سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
