پنجاب کے ضلع چنیوٹ کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں طلبہ کو شدید گرمی کے دوران پنکھوں کے بغیر کلاسیں لینے پر مجبور کیے جانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد عوامی غم و غصہ بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بچوں کو گرم اور حبس زدہ کلاس رومز میں بیٹھے دیکھا گیا، جس کے بعد والدین اور شہریوں نے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق اسکول میں مبینہ طور پر بجلی کے اخراجات کم کرنے کے لیے پنکھے بند رکھے گئے۔ طلبہ اور والدین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جاری شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران ایسی صورتحال بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے تعلیمی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ کئی افراد نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت طلبہ کی حفاظت کے لیے گرمیوں کی تعطیلات میں توسیع کر رہی ہے تو اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیوں یقینی نہیں بنائی جا رہی۔
تعلیمی حکام کے مطابق متعلقہ اسکول پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت آؤٹ سورس کیا گیا تھا اور معاملے کی جانچ پر غور کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے دوران صاف پانی، مناسب ہوا داری اور پنکھوں جیسی بنیادی سہولیات طلبہ کا بنیادی حق ہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف بچوں کی صحت کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ تعلیمی ماحول اور سیکھنے کی صلاحیت پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔
