کے آئی ایم ایس لاہور پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ادارے نے پنجاب میں شدید گرمی اور گرمیوں کی تعطیلات کے باوجود امتحانات کا انعقاد جاری رکھا، جس پر طلبہ اور والدین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
والدین اور طلبہ کے مطابق ادارے نے تعطیلات کے دوران بھی امتحانی شیڈول برقرار رکھا، جس کے باعث طلبہ کو شدید گرمی میں کیمپس آنا پڑا۔ والدین کا کہنا ہے کہ موجودہ موسمی حالات میں طلبہ کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
کئی والدین نے شکایت کی کہ طلبہ امتحانات میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں تعلیمی نقصان، نتائج میں تاخیر یا دیگر مسائل کے خوف کا شکار تھے۔ بعض والدین نے سوال اٹھایا کہ شدید گرمی کے پیشِ نظر امتحانات کو مؤخر یا متبادل طریقے سے کیوں منعقد نہیں کیا گیا۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث آ گیا جہاں صارفین نے تعلیمی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ شدید گرمی اور تعطیلات کے دوران امتحانات سے متعلق واضح پالیسی مرتب کی جائے۔
طلبہ نے شدید گرمی، سفری مشکلات اور دن کے اوقات میں نقل و حرکت میں دشواریوں کی شکایت بھی کی۔ والدین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ امتحانی شیڈول پر نظرِ ثانی کی جائے اور طلبہ کے لیے محفوظ انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اگرچہ ادارے تعلیمی کیلنڈر مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم شدید موسمی حالات میں طلبہ کی صحت اور حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
تاحال ادارے کی جانب سے ان الزامات پر کوئی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم اس معاملے نے پنجاب بھر میں تعلیمی اداروں میں گرمی کے دوران حفاظتی اقدامات اور امتحانی پالیسیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
