کراچی میں جاری انٹرمیڈیٹ امتحانات کے دوران ایک بار پھر پرچہ لیک ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت اور سکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اردو لازمی (پارٹ-II) کا پرچہ امتحان کے دوران سوشل میڈیا پر گردش کرتا دیکھا گیا، جس پر طلبہ اور والدین نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اطلاعات کے مطابق پرچہ امتحان شروع ہونے کے کچھ ہی وقت بعد مختلف آن لائن پلیٹ فارمز اور واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا گیا۔ والدین اور تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی مکمل تحقیقات کی جائیں کہ پرچہ امتحانی مراکز تک پہنچنے سے پہلے لیک ہوا یا امتحان کے دوران باہر نکالا گیا۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ امتحانات میں نقل اور پرچہ لیک کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک امتحانی مرکز سے پرچہ لیک کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی تھی، جہاں واٹر مارکنگ سسٹم کی مدد سے ذمہ دار امیدوار کا سراغ لگایا گیا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کراچی کے تعلیمی بورڈز پہلے ہی امتحانی بے ضابطگیوں، نقل مافیا اور پرچہ لیک کے الزامات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں۔ حالیہ تحقیقات میں بھی امتحانی مراکز کی تبدیلی، سکیورٹی خامیوں اور پرچہ لیک سے متعلق خدشات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو طلبہ کا امتحانی نظام پر اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور امتحانات کی سکیورٹی کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید مضبوط بنایا جائے۔
