زمین سے مکمل سورج گرہن جلد ختم نہیں ہو رہے، لیکن کائناتی گھڑی چل پڑی ہے۔ ماہرین کے مطابق چاند آہستہ آہستہ زمین سے دور ہو رہا ہے، اور ایک دن ایسا آئے گا جب وہ آسمان پر اتنا چھوٹا دکھائی دے گا کہ سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ نہیں سکے گا۔ اس کے بعد زمین پر مکمل سورج گرہن ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔
اس وقت انسان ایک غیر معمولی کائناتی دور میں رہ رہا ہے۔ سورج چاند سے تقریباً 400 گنا بڑا ہے، لیکن وہ زمین سے تقریباً 400 گنا زیادہ دور بھی ہے۔ اسی وجہ سے زمین سے دیکھنے پر دونوں کا ظاہری حجم تقریباً برابر لگتا ہے۔ یہی توازن مکمل سورج گرہن کو ممکن بناتا ہے، جب چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے اور دن چند لمحوں کے لیے اندھیرے میں بدل جاتا ہے۔
لیکن یہ توازن ہمیشہ نہیں رہے گا۔ چاند ہر سال زمین سے تقریباً 4 سینٹی میٹر، یعنی لگ بھگ ڈیڑھ انچ، دور ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ فاصلہ نہ ہونے کے برابر لگتا ہے، مگر کروڑوں سال کے عرصے میں یہی معمولی تبدیلی بہت بڑی بن جاتی ہے۔ جیسے جیسے چاند دور جائے گا، آسمان پر اس کا ظاہری حجم کم ہوتا جائے گا۔ آخرکار وہ سورج کے سامنے آنے کے باوجود اسے مکمل طور پر نہیں ڈھانپ سکے گا۔
عام طور پر دیا جانے والا اندازہ یہ ہے کہ زمین پر آخری مکمل سورج گرہن تقریباً 60 کروڑ سال بعد ہوگا۔ اس کے بعد سورج گرہن تو ہوتے رہیں گے، مگر وہ زیادہ تر جزوی یا حلقوی ہوں گے۔ حلقوی گرہن میں چاند سورج کے سامنے آتا ہے، لیکن سورج کے کناروں پر روشنی کا ایک روشن حلقہ باقی رہتا ہے، جسے عام طور پر “رِنگ آف فائر” کہا جاتا ہے۔
تاہم حتمی وقت کے بارے میں مکمل اتفاق نہیں۔ ایک حالیہ حساب کے مطابق، اگر سورج کے بتدریج بدلتے ہوئے ظاہری حجم کو بھی شامل کیا جائے تو آخری مکمل سورج گرہن اس سے کہیں پہلے، یعنی تقریباً 24 کروڑ 60 لاکھ سال بعد بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف چاند کے دور جانے کا نہیں، بلکہ سورج کے بدلتے حجم، زمین کے مدار اور گرہن کی باریک جیومیٹری سے بھی جڑا ہوا ہے۔
فی الحال مکمل سورج گرہن زمین کے مستقبل کا حصہ ہیں۔ اگلا مکمل سورج گرہن 12 اگست 2026 کو گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین، روس اور پرتگال کے ایک چھوٹے حصے میں دیکھا جا سکے گا۔ اس کے بعد 2 اگست 2027 کو مکمل سورج گرہن جنوبی اسپین، شمالی افریقہ، سعودی عرب اور یمن کے کچھ علاقوں سے نظر آئے گا۔
مکمل سورج گرہن ہر ماہ اس لیے نہیں ہوتا کہ چاند کا مدار زمین کے سورج کے گرد مدار کے مقابلے میں تھوڑا جھکا ہوا ہے۔ جب سورج، چاند اور زمین بالکل درست زاویے پر آتے ہیں، تب ہی چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ اسی لیے مکمل گرہن ایک تنگ راستے سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
لہٰذا یہ بات درست ہے کہ مکمل سورج گرہن ختم ہو رہے ہیں — مگر انسانی وقت کے پیمانے پر نہیں، بلکہ کائناتی وقت کے پیمانے پر۔
آخری مکمل سورج گرہن ابھی بہت دور ہے۔ لیکن ایک دن زمین پر دن کے اجالے میں آنے والا وہ پراسرار اندھیرا آخری بار اترے گا، اور پھر چاند کبھی سورج کو مکمل طور پر نہیں چھپا سکے گا۔
