نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹائرانوسورس ریکس (ٹی ریکس) ممکنہ طور پر سائنسدانوں کے پہلے اندازوں سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ تحقیق میں اس عظیم گوشت خور ڈائنوسار کی جسمانی طاقت، شکار کرنے کی صلاحیت اور جسمانی ساخت کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق فوسلز، کھوپڑی، ہڈیوں اور عضلات کے جڑنے کے مقامات کا جدید تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹی ریکس کا جسم غیر معمولی حد تک مضبوط تھا۔ تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ اس کی گردن، جبڑے اور ٹانگوں کے عضلات پہلے سمجھے جانے سے زیادہ طاقتور تھے، جس سے وہ شکار کے دوران انتہائی زبردست قوت استعمال کر سکتا تھا۔
ٹی ریکس تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سے 6 کروڑ 80 لاکھ سال پہلے کریٹیشیئس دور کے آخری حصے میں زمین پر موجود تھا۔ اسے زمین کی تاریخ کے سب سے بڑے خشکی پر رہنے والے شکاری جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 12 سے 13 میٹر (40 سے 43 فٹ)، کولہوں تک اونچائی تقریباً 4 میٹر (13 فٹ) اور وزن 7 سے 9 ٹن تک ہو سکتا تھا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ٹی ریکس کی بڑی کھوپڑی اور طاقتور جبڑے اسے زمین پر رہنے والے جانوروں میں سب سے زیادہ طاقتور کاٹنے کی صلاحیت رکھنے والوں میں شامل کرتے تھے۔ اس کے نوکیلے اور دندانے دار دانت نہ صرف گوشت بلکہ ہڈیوں کو بھی آسانی سے توڑ سکتے تھے، جس سے وہ بڑے جانوروں کا شکار مؤثر انداز میں کر سکتا تھا۔
جدید کمپیوٹر ماڈلز اور تھری ڈی تجزیوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹی ریکس کا مضبوط جسم شکار کے دوران پہلے کے اندازوں سے زیادہ استحکام اور طاقت فراہم کرتا تھا، جس سے اس کی حملہ کرنے کی صلاحیت مزید مؤثر ثابت ہوتی تھی۔
سائنسدان اب بھی اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا ٹی ریکس مکمل طور پر شکاری تھا یا موقع ملنے پر مردہ جانوروں کو بھی کھاتا تھا۔ تاہم موجودہ شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زندہ شکار بھی کرتا تھا اور ضرورت پڑنے پر مردہ جانوروں سے بھی خوراک حاصل کر لیتا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید تھری ڈی امیجنگ، کمپیوٹر سمولیشن اور فوسلز کے تجزیے نے قدیم جانداروں کے بارے میں ہماری معلومات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کی تحقیق ٹی ریکس کی حرکت، شکار کرنے کے انداز اور قدیم ماحولیاتی نظام میں اس کے کردار کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی۔
یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹی ریکس صرف ایک بڑا ڈائنوسار نہیں بلکہ اپنی طاقت، جسمانی ساخت اور شکاری صلاحیتوں کے باعث زمین کی تاریخ کے طاقتور ترین شکاریوں میں سے ایک تھا۔
