*ماہرین تعلیم، دانشوروں اور پالیسی سازوں کی علاقائی روابط، سی پیک اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے پر تفصیلی گفتگو
جامعہ کراچی کے چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم میں چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے اور چینی عالمی زبان کے دن کی مناسبت سے ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین تعلیم، دانشوروں اور پالیسی سازوں نے علاقائی روابط، سی پیک اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے پر تفصیلی گفتگو کی۔
کانفرنس کا عنوان “سی پیک و جنوبی ایشیا سے وسطی ایشیا تک علاقائی روابط: چیلنجز اور مواقع” تھا، جس کا انعقاد کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ برائے چینی زبان، شعبہ بین الاقوامی تعلقات اور دفتر مشیر امور طلبہ جامعہ کراچی کے اشتراک سے کیا گیا۔
چیئرمین پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد، مشاہد حسین سید نےاپنے آن لائن کلیدی خطاب میں کہا کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں عالمی اور علاقائی حالات نے اقوام کو سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے دوستوں، اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مضبوط اور دیرپا تعلقات استوار کیے ہیں، اور عالمی نظام میں تبدیلیوں کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات بدستور مستحکم اور پائیدار رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاک-چین تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مسلسل تعاون کی ایک روشن مثال ہیں، جہاں دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ انہوں نے پاکستان کو “دوستوں کی مادرِ وطن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تعلقات کو استحکام، وفاداری اور باہمی احترام کی بنیاد پر فروغ دیا جاتا ہے۔
مشاہد حسین سید نے علمی و فکری مکالمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے برعکس آج کے دور میں ڈائیلاگ نہایت اہم ہو چکا ہے، کیونکہ یہی عمل پالیسی سازی، باہمی افہام و تفہیم اور عالمی سطح پر مثبت پیش رفت کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان بامعنی تعاون نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
انہوں نے عالمی سطح پر چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین تیزی سے ایک سائنسی سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تقریباً 40 فیصد تحقیقی مقالے چین سے شائع ہو رہے ہیں، جبکہ دنیا کے سرفہرست سائنسی اداروں میں نمایاں تعداد چین میں قائم ہے، جو عالمی علمی توازن میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ 2013ء سے جامعہ کراچی میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، جو نہ صرف پاک-چین تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ پاکستان میں چینی زبان اور ثقافت کے فروغ میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر نہ صرف اقتصادی ترقی میں بلکہ تحقیق و ترقی کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت اور اقدار کو محفوظ رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے، جس کے لیے حقیقت پسندانہ حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو ترقی کے ایک جامع تصور کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک اس وژن کا عملی مظہر ہے، جو علاقائی روابط، تجارت اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے چینی ڈائریکٹر پروفیسر ژانگ شاؤپنگ نے کہا کہ یہ ادارہ جامعہ کراچی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، جو تعلیمی معیار کی بہتری، طلبہ کی تربیت اور بین الثقافتی روابط کے فروغ میں مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک-چین دوستی کے 75 برس ایک تاریخی سنگ میل ہیں، جن کے دوران دونوں ممالک نے مشترکہ ترقی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے خطے میں بنیادی ڈھانچے، توانائی، تجارت اور قانونی اصلاحات کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کو ممکن بنایا ہے، جس سے جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان روابط مضبوط ہوئے ہیں۔
رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ سی پیک محض ترقیاتی منصوبوں کا مجموعہ نہیں بلکہ علاقائی انضمام کا ایک انقلابی وژن ہے، جو مختلف خطوں کو باہم مربوط کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان منصوبوں کا تنقیدی جائزہ لے اور نئے مواقع سے بھرپور استفادہ کرے۔
شعبہ بین الاقوامی تعلقات جامعہ کراچی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نعیم احمد نے کہا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی نظام میں کئی نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں، جنہوں نے ماہرین کو نئے نظریاتی فریم ورک تشکیل دینے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پیک نے علاقائی تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، تاہم خطے میں جاری تنازعات ان منصوبوں کے لیے چیلنج بھی ہیں۔
انہوں نے خطے کی پیچیدہ تزویراتی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑی علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اور حالیہ عالمی تنازعات نے سلامتی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات علاقائی ترقی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ جامعہ کراچی کے پاکستانی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین خان نے کہا کہ چینی زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیب، تاریخ اور فکر کو سمجھنے کی کلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 1.3 ارب افراد چینی زبان بولتے ہیں، جو اسے عالمی سطح پر ایک اہم زبان بناتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی زبان سیکھنے سے نہ صرف چین کی ترقی اور اس کے عالمی کردار کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ یہ پاکستان اور چین کے درمیان عوامی سطح پر روابط کو بھی مضبوط بناتی ہے، جو دیرپا دوستی کی بنیاد ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر مشیر امور طلبہ جامعہ کراچی ڈاکٹر نوشین رضا نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی علمی نشستیں نہ صرف مکالمے کو فروغ دیتی ہیں بلکہ مستقبل میں بہتر پالیسی سازی اور علاقائی تعاون کے لیے راہ ہموار کرتی ہیں۔
