پنجاب حکومت نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کے فروغ کے لیے لاہور میں دو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اسکول قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 81 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ان اسکولوں میں طلبہ کو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جائے گی تاکہ انہیں مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی سے متعلق روزگار کے مواقع کے لیے تیار کیا جا سکے۔
منصوبے کے تحت اسکولوں میں اسمارٹ کلاس رومز، جدید کمپیوٹر لیبارٹریاں اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی سہولیات قائم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے خصوصی اے آئی تربیتی پروگرام بھی زیر غور ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد طلبہ کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانا ہے۔ یہ منصوبہ پنجاب میں تعلیمی نظام کی جدیدکاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کے فروغ کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ پاکستان میں اسکول کی سطح پر مصنوعی ذہانت کی تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے اور مستقبل میں دیگر شہروں کے لیے بھی ایک ماڈل بن سکتا ہے۔
