جنیوا: ماہرینِ صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طفیلی (Parasitic) بیماریوں کے مؤثر خاتمے کے لیے انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کو ایک مربوط فریم ورک کے تحت دیکھنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ون ہیلتھ (One Health) حکمتِ عملی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، جو انسانوں، جانوروں اور ماحول کی صحت کے درمیان گہرے تعلق کو تسلیم کرتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق متعدد طفیلی بیماریاں، جن میں لییشمینیا، ایکینوکوکوسس، ٹرائپانوسومیاسس اور دیگر زونوٹک امراض شامل ہیں، انسانوں اور جانوروں کے درمیان منتقل ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بیماریوں کے مکمل خاتمے کے لیے صرف طبی علاج کافی نہیں بلکہ جانوروں کی صحت، صاف ماحول، محفوظ پانی اور مؤثر نگرانی کے نظام بھی ضروری ہیں۔
ون ہیلتھ ماڈل کے تحت مختلف شعبوں کے ماہرین، بشمول ڈاکٹروں، ویٹرنری ماہرین، ماحولیاتی سائنس دانوں اور پالیسی سازوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جاتا ہے تاکہ بیماریوں کی بروقت نشاندہی، روک تھام اور کنٹرول ممکن بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، شہری آبادی میں اضافہ، جنگلات کی کٹائی اور انسانوں اور جنگلی حیات کے بڑھتے ہوئے رابطے نے کئی طفیلی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں مربوط نگرانی اور مشترکہ ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
صحت کے عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ممالک ون ہیلتھ نظام میں سرمایہ کاری کریں، بین الادارہ تعاون کو مضبوط بنائیں اور مقامی سطح پر آگاہی بڑھائیں تو طفیلی بیماریوں کے خاتمے کے عالمی اہداف کو تیز رفتاری سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ صحتِ عامہ، حیوانی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مشترکہ چیلنج کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو متعدی اور طفیلی بیماریوں سے بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
