اگر آپ اہم معلومات کو یاد رکھنے کے بجائے ان کا سکرین شاٹ لے کر فون کی گیلری میں محفوظ کر لیتے ہیں، تو ہوشیار ہو جائیں۔ ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ معلومات کو ڈیجیٹل ڈیوائس میں محفوظ کرنے کی یہ عادت آپ کی یادداشت پر منفی اثر ڈال رہی ہے اور آپ کے دماغ کی معلومات کو ذہن نشین کرنے کی صلاحیت کو کم کر رہی ہے۔
ماہرینِ نفسیات اسے "کوفنیٹو آف لوڈنگ” کا نام دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، جب ہم کسی چیز کا سکرین شاٹ لیتے ہیں، تو ہمارا دماغ اسے ایک "محفوظ شدہ” ڈیٹا کے طور پر رجسٹر کر لیتا ہے۔ اس عمل کے بعد دماغ اس معلومات کو خود یاد رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں وہ معلومات کبھی بھی طویل مدتی یادداشت کا حصہ نہیں بن پاتیں۔
یہ رجحان پہلے سے موجود "گوگل ایفیکٹ” کی ایک جدید شکل ہے۔ ماضی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ جب انسانوں کو معلوم ہو کہ معلومات انٹرنیٹ پر آسانی سے دستیاب ہیں، تو وہ انہیں یاد رکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ تاہم، سکرین شاٹ کا معاملہ اس لیے زیادہ سنگین ہے کیونکہ اس میں صارف کو ایک "غلط اطمینان” ہوتا ہے کہ اس نے معلومات کو خود کیپچر کیا ہے، اس لیے وہ اسے کبھی بھی دیکھ سکتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج خاص طور پر طالب علموں اور دفتری ملازمین کے لیے فکر انگیز ہیں۔ لیکچر سلائیڈز یا اہم میٹنگ نوٹس کے سکرین شاٹس لینے سے گیلری تو بھر جاتی ہے، لیکن دماغ اس معلومات کو پروسیس کرنے کے عمل سے محروم رہ جاتا ہے۔ جب ہم کسی چیز کو کیپچر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، تو ہمارا دماغ اسے سمجھنے کے عمل کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معلومات کو یاد رکھنے کا بہترین طریقہ "پروڈکشن ایفیکٹ” ہے۔ یعنی معلومات کو اپنے ہاتھوں سے لکھنا یا انہیں اپنے الفاظ میں خلاصہ کرنا۔ یہ عمل دماغ میں مضبوط اعصابی راستے بناتا ہے، جبکہ سکرین شاٹ لینا ایک غیر فعال عمل ہے جس میں دماغی کوشش صفر ہوتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم اسی طرح اپنی یادداشت کے لیے ڈیجیٹل آرکائیوز پر انحصار کرتے رہے، تو ہماری گہری اور آزادانہ طور پر یاد رکھنے کی صلاحیت مزید سکڑ جائے گی۔ اگلی بار جب آپ کو کوئی اہم چیز ملے، تو سکرین شاٹ لینے کے بجائے اسے غور سے پڑھیں اور اپنے الفاظ میں دہرائیں۔ یاد رکھیں، اگر آپ اسے سوچنے میں وقت نہیں لگائیں گے، تو آپ اسے کبھی یاد نہیں رکھ پائیں گے—چاہے آپ کے فون میں کتنے ہی سکرین شاٹس کیوں نہ محفوظ ہوں۔
