نئی دہلی — پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث ایئر انڈیا کو اب تک 12 ہزار 920 کروڑ پاکستانی روپے (تقریباً 4 ہزار کروڑ بھارتی روپے) کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمبل ولسن کے مطابق، یہ نقصان فضائی راستوں میں تبدیلی، اضافی ایندھن کے استعمال، عملے کے اخراجات اور طویل پروازوں کے نتیجے میں ہوا ہے۔
ولسن نے بتایا کہ فضائی حدود بند ہونے کے بعد یورپ اور امریکا جانے والی پروازوں کا دورانیہ 60 سے 90 منٹ تک بڑھ گیا ہے، جس کے باعث ایندھن اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، فضائی راستوں کی تبدیلی سے نہ صرف ایئر انڈیا بلکہ دیگر بھارتی ایئرلائنز کو بھی مالی نقصان کا سامنا ہے۔ تاہم، ایئر انڈیا چونکہ طویل فاصلہ پروازوں کی بڑی تعداد چلاتی ہے، اس لیے اس پر اثر سب سے زیادہ پڑا ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق، اگر پاکستان کی فضائی حدود طویل مدت تک بند رہتی ہیں تو بھارتی فضائی کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جو بالآخر مسافروں کے کرایوں پر بھی اثر انداز ہوگا۔
