شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جانب سے منظور کی گئی حالیہ قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی جوہری صلاحیت برقرار رکھے گا۔
IAEA نے 17 ستمبر 2026 کو ویانا میں ہونے والی اپنی 70ویں جنرل کانفرنس کے دوران شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خلاف قرارداد منظور کی۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہوسکتا اور پیانگ یانگ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی تمام متعلقہ جوہری سرگرمیاں فوری طور پر روک دے۔ قرارداد کے حق میں 103 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ 6 نے مخالفت اور 14 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے IAEA کی قرارداد پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ادارے پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ IAEA امریکا اور جنوبی کوریا سے متعلق جوہری سرگرمیوں کو نظر انداز کر رہا ہے جبکہ شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کم یو جونگ نے مؤقف اختیار کیا کہ شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور پیانگ یانگ اپنی جوہری حیثیت سے دستبردار نہیں ہوگا۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے بھی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی جوہری طاقت کی حیثیت مستقل اور ناقابلِ واپسی ہے۔
IAEA شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ ادارے کے معائنہ کار 2009 سے شمالی کوریا میں موجود نہیں ہیں، اس لیے IAEA جوہری تنصیبات کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ تصاویر اور دستیاب معلومات پر انحصار کرتا ہے۔
حالیہ جائزوں میں یانگ بیون اور کانگ سون کے جوہری مراکز پر سرگرمیوں کے شواہد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ IAEA کے مطابق ان مقامات پر یورینیم افزودگی سے متعلق سرگرمیاں جاری رہنے کے شواہد موجود ہیں، جبکہ شمالی کوریا کے جوہری انفراسٹرکچر میں توسیع بھی تشویش کا باعث ہے۔
شمالی کوریا اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان یہ تازہ تنازع ایک مرتبہ پھر پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام پر عالمی اختلافات کو نمایاں کرتا ہے۔ IAEA اور متعدد ممالک شمالی کوریا سے جوہری تخفیف اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ شمالی کوریا اپنی جوہری صلاحیت کو قومی سلامتی کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے اسے ترک کرنے سے انکار کرتا ہے۔
