گڈز ٹرانسپورٹرز نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں پولیس کی تحویل میں موجود کنٹینرز اور دیگر سامان بردار گاڑیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ گاڑیاں 27 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ سیاسی احتجاج سے قبل سیکیورٹی انتظامات کے سلسلے میں تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب پولیس نے تقریباً 700 گاڑیوں اور کنٹینرز کو روک رکھا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام گاڑیاں فوری طور پر مالکان کے حوالے کی جائیں، کیونکہ طویل حراست کے باعث ٹرانسپورٹرز کو مالی نقصان جبکہ گاڑیوں میں موجود سامان کو خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹرانسپورٹرز کے مطابق زیرِ تحویل کنٹینرز میں ادویات، اشیائے خورونوش اور مختلف اہم صنعتوں کے لیے ضروری سامان موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں گاڑیوں کو طویل عرصے تک روکنے سے خاص طور پر ادویات اور خراب ہونے والی اشیا متاثر ہوسکتی ہیں۔
ٹرانسپورٹرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمرشل گاڑیوں کا بنیادی مقصد تجارتی سامان کی ترسیل ہے اور انہیں سیاسی احتجاج یا سڑکیں بند کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق گاڑیوں کی غیر ضروری بندش سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ ملک کی سپلائی چین پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں مختلف سیاسی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر پولیس نے کئی علاقوں سے کنٹینرز تحویل میں لینا شروع کیے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق سنگجانی اور ترنول سمیت مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں کمرشل کنٹینرز روکے گئے ہیں۔
معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا جب اطلاعات سامنے آئیں کہ بعض زیرِ تحویل کنٹینرز میں ادویات، جن میں انسولین بھی شامل ہے، موجود تھیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ادویات سے لدے کنٹینرز فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ادویات لے جانے والی گاڑیوں کو نہیں روکا جانا چاہیے۔
اس کے باوجود ٹرانسپورٹرز تمام زیرِ تحویل گاڑیوں اور کنٹینرز کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ملک شہزاد اعوان نے خبردار کیا ہے کہ اگر گاڑیاں فوری طور پر واپس نہ کی گئیں تو ٹرانسپورٹ تنظیم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
ٹرانسپورٹرز نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ دورانِ حراست سامان یا گاڑیوں کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں رواں ماہ ہونے والے مختلف سیاسی احتجاج اور اجتماعات کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔
