پنجاب حکومت نے رات 8 بجے کاروبار بند کرنے کے اپنے سخت فیصلے میں نرمی شروع کر دی ہے، اور اب کچھ ایسے شعبوں کو اس پابندی سے الگ کیا جا رہا ہے جن کے بارے میں حکام بھی سمجھتے ہیں کہ ان پر ایک ہی طرز کا ضابطہ لاگو کرنا عملی نہیں۔ اس رعایت سے سب سے زیادہ فائدہ آئی ٹی کمپنیوں، کال سینٹرز، بی پی اوز اور کھیلوں کی سہولتوں کو ہوگا، کیونکہ یہ شعبے پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر رہے تھے کہ جلد بندش سے ان کی کارکردگی، سروس ڈیلیوری اور بعض صورتوں میں روزگار متاثر ہو رہا ہے۔
یہ پالیسی اصل میں اپریل کے آغاز میں توانائی بچت کے وسیع تر حکومتی منصوبے کے تحت نافذ کی گئی تھی۔ اس کے تحت پنجاب میں بازاروں، دکانوں اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا، جبکہ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز کو رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی۔ ادویات کی دکانیں، اسپتال، پٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، تنور، بیکریاں اور دودھ کی دکانیں ابتدا ہی سے اس حکم سے مستثنیٰ تھیں۔
اب مگر صورت حال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔
ڈیجیٹل معیشت سے جڑے شعبوں کے لیے سب سے واضح ریلیف سامنے آیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے کال سینٹرز اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کو کاروباری اوقات کی پابندی سے مکمل استثنا دے دیا ہے، تاکہ وہ چوبیس گھنٹے کام جاری رکھ سکیں۔ یہ فیصلہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ یہ شعبہ بیرون ملک کلائنٹس، مختلف ٹائم زونز اور رات کے اوقات میں کام کرنے والے نظام پر انحصار کرتا ہے۔
یہی منطق وسیع تر آئی ٹی صنعت پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کا دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ روایتی بازاروں جیسی ٹائمنگ ان کے لیے موزوں نہیں، کیونکہ ان کا کاروبار عالمی منڈی، ریموٹ سروسز اور غیر روایتی دفتری اوقات سے جڑا ہوتا ہے۔ اگرچہ مختلف رپورٹس میں نرمی کی تفصیلات کچھ فرق کے ساتھ سامنے آئیں، مگر مجموعی سمت واضح ہے: برآمدات سے وابستہ ڈیجیٹل شعبوں کو عام ریٹیل کاروبار سے الگ سمجھا جا رہا ہے۔
اسپورٹس سہولتیں بھی اس بحث کا اہم حصہ بن گئی ہیں۔ کھلاڑیوں، جم مالکان اور فٹنس سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ شام کے بعد کے اوقات ہی زیادہ تر شہریوں کے لیے ورزش اور کھیل کا واحد مناسب وقت ہوتے ہیں، کیونکہ دفتری اوقات کے بعد ہی لوگ جم یا کھیل کے میدانوں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر یہ مراکز بھی 8 بجے بند ہوں تو اس کا براہ راست اثر عوامی سہولت اور صحت مند سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔
اسی تناظر میں کاروباری برادری کی تنقید بھی بڑھتی گئی۔ تاجر تنظیموں نے پہلے ہی شکایت کی تھی کہ اس حکم پر یکساں عملدرآمد نہیں ہو رہا، اور مختلف علاقوں میں مختلف معیار اپنائے جا رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا کہنا تھا کہ اگر توانائی بچت واقعی مقصد ہے تو پھر اصول سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ یوں جو فیصلہ ابتدا میں کفایت شعاری اور بجلی بچانے کے اقدام کے طور پر پیش کیا گیا تھا، وہ آہستہ آہستہ معاشی ضرورت اور زمینی حقائق کے درمیان توازن کا معاملہ بنتا جا رہا ہے۔
حکومت کا بنیادی مؤقف بدستور یہی ہے کہ جلد مارکیٹ بند کرنے سے توانائی کی بچت ہوگی اور معاشی دباؤ کے دور میں یہ ایک ضروری قدم ہے۔ مگر استثنا کی بڑھتی ہوئی فہرست خود بتا رہی ہے کہ پالیسی کو اب مکمل سختی سے نافذ کرنا آسان نہیں۔ ضروری خدمات کو پہلے دن سے الگ رکھا گیا، پھر برآمدی نوعیت کے ڈیجیٹل شعبوں کو ریلیف ملا، اور اب کھیل اور فٹنس سے وابستہ حلقے بھی زیادہ وقت مانگ رہے ہیں۔
اصل خبر یہ نہیں کہ پنجاب میں رات 8 بجے بندش کا قانون نافذ کیا گیا تھا۔ اصل خبر یہ ہے کہ یہ قانون پہلے ہی بدلنا شروع ہو چکا ہے۔ بظاہر حکومت توانائی بچت کے مؤقف پر قائم ہے، مگر عملی طور پر ایک نئی درجہ بندی سامنے آ رہی ہے: عام ریٹیل کاروبار جلد بند ہوں گے، ضروری خدمات کھلی رہیں گی، اور وہ شعبے جو معیشت، برآمدات یا عوامی ضرورت سے جڑے ہیں، انہیں پابندی کے دائرے سے آہستہ آہستہ باہر نکالا جا رہا ہے۔
فی الحال صورت حال یہی ہے کہ رات 8 بجے کی پابندی برقرار ہے، لیکن سب کے لیے نہیں
