نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بلاتعطل توانائی کی فراہمی اور بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے خاص طور پر توانائی کی مسلسل فراہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں ترقی پذیر ممالک اور عالمی سپلائی چینز کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اسحاق ڈار نے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ خطے میں سمندری راستوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن بھی آبنائے ہرمز میں جہازوں اور عملے کی سلامتی سے متعلق خطرات پر تشویش ظاہر کر چکی ہے۔
گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی قابلِ عمل راستہ ہیں۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور توانائی و تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنے پر زور دیتا رہا ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی تعاون اور رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
یہ ٹیلیفونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کو سیکیورٹی اور بحری آمدورفت کے حوالے سے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ اہم سمندری راستوں میں طویل رکاوٹ عالمی توانائی کی فراہمی، شپنگ اخراجات، تجارت اور ضروری اشیا کی عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔
