روس نے ڈرژبا پائپ لائن کے ذریعے جرمنی کو خام تیل کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام ان توانائی تعلقات کا حتمی خاتمہ ہے جنہوں نے دہائیوں تک یورپی معیشت کی بنیاد رکھی تھی۔ ماسکو کی جانب سے جرمن ریفائنری آپریٹرز کو دیے گئے اس پیغام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ روس اب اپنی برآمدات کا مرکز مکمل طور پر ایشیائی منڈیوں کی طرف منتقل کر چکا ہے۔
ڈرژبا، جس کا مطلب "دوستی” ہے، برسوں تک سوویت اور بعد ازاں روسی توانائی کی یورپ تک رسائی کا سب سے اہم ذریعہ رہی ہے۔ جرمنی کو تیل کی ترسیل روکنا دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں قائم آخری جسمانی رابطے کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
برلن کے لیے یہ فیصلہ اچانک نہیں ہے۔ جرمن ریفائنریز نے گزشتہ دو برسوں کے دوران متبادل ذرائع تلاش کرنے پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ شمالی سمندر، امریکا اور قازقستان سے سمندری راستے سے تیل کی درآمدات میں اضافے کے بعد، روس پر انحصار، جو یوکرین تنازع سے قبل تقریباً 35 فیصد تھا، اب صفر پر آ چکا ہے۔
جرمن وزارتِ اقتصادیات کے ایک اہلکار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم تنازع کے آغاز سے ہی اس دن کے لیے تیاری کر رہے تھے۔ ہماری ریفائنریز اب ڈرژبا کے بنیادی ڈھانچے کی محتاج نہیں ہیں۔”
یہ فیصلہ صرف معاشی نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک تبدیلی ہے۔ روس نے اس سال اپنا ‘یورال’ خام تیل چین اور بھارت کو رعایتی نرخوں پر فروخت کرنے پر توجہ مرکوز رکھی ہے تاکہ مغربی پابندیوں سے بچ سکے۔ جرمنی کے لیے نل بند کر کے ماسکو نے اس طلاق پر باقاعدہ مہر ثبت کر دی ہے جس کی بنیاد پابندیوں اور سیاسی کشیدگی نے پہلے ہی رکھ دی تھی۔
پائپ لائن کا شمالی حصہ، جو بیلاروس سے ہوتا ہوا پولینڈ اور جرمنی تک جاتا ہے، اب غیر فعال ہو جائے گا۔ تاہم، ہنگری، سلوواکیہ اور چیک جمہوریہ اس پائپ لائن کے جنوبی حصے کے ذریعے بدستور تیل حاصل کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ ممالک ابھی تک توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں مکمل خود مختاری حاصل نہیں کر سکے۔
کریملن نے سپلائی مکمل بند کرنے کی حتمی تاریخ نہیں دی، لیکن انڈسٹری کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ موجودہ سہ ماہی کے اختتام تک تیل کا بہاؤ رک جائے گا۔
یہ صرف تیل کی سپلائی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ اس طویل مدتی جیو پولیٹیکل نظریے کا خاتمہ ہے جو یہ مانتا تھا کہ توانائی میں گہرا انضمام ماسکو اور برلن کے درمیان امن کی ضمانت دے گا۔ وہ دور یوکرین میں ٹینک داخل ہوتے ہی ختم ہو چکا تھا، اور آج، یہ پائپ لائنیں صرف اسی حقیقت کو عملی جامہ پہنا رہی ہیں۔
